رسائی کے لنکس

عبدالقادر ملا کی تدفین، پرتشدد مظاہروں میں چار ہلاک


پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو علی الصبح برسر اقتدار جماعت عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو بہیمانہ تشدد کر کے ہلاک کردیا۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو پھانسی دیے جانے کے بعد ان کی جماعت کے کارکنوں کی طرف سے بڑے پیمانے پر مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔

جمعہ کو پولیس کے مطابق جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کے واقعات بھی رونما ہوئے۔

مختلف مقامات پر دیسی ساختہ کم شدت کے بموں کے دھماکے کرنے کے علاوہ مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑکیں بھی بند کردیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کو علی الصبح برسر اقتدار جماعت عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو بہیمانہ تشدد کر کے ہلاک کردیا۔

جنوبی ضلع نواکھلی میں جماعت اسلامی کے مظاہرین سے پولیس کی جھڑپ میں ایک شخص مارا گیا اور ایک گاڑی کے ڈرائیور کو مظاہرین نے تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دوسری جانب شہریوں کی ایک قابل ذکر تعداد نے ملا کی پھانسی کو خوش آئند اقدام تصور کرتے ہوئے اسے ’’جنگ آزادی میں مرنے والے تیس لاکھ شہریوں کی روحوں کے لیے اعزاز‘‘ کی علامت قرار دیا۔

عبدالقادر ملا کو جمعرات کی رات دس بج کر ایک منٹ پر پھانسی دی گئی تھی اور جمعہ کی صبح انھیں آبائی علاقے فرید پور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی نے اتوار کو ملگ گیر ہڑتال کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

عبدالقادر ملا کو ملک میں قائم ایک خصوصی ٹربیونل نے 1971ء میں ملک کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے بعد میں سزائے موت میں تبدیل کردیا گیا۔

عبد القادر ملا کی فائل فوٹو

عبد القادر ملا کی فائل فوٹو


منگل اور بدھ کی درمیانی شب ان کو پھانسی دی جانی تھی لیکن اس سے کچھ ہی دیر قبل ان کے وکلاء نے سپریم کورٹ کے ایک سینیئر جج سے اس پر حکم امتناعی حاصل کرکے سپریم کورٹ میں سزا میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی۔

عدالت عظمیٰ نے جمعرات کو ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے بھی قادر ملا کی پھانسی پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
XS
SM
MD
LG