رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: انتخابات کے اعلان کے بعد مظاہروں میں شدت


حزب مخالف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی’’بی این پی‘‘ کا مطالبہ تھا کہ جب تک انتخابات کی نگرانی کرنے کے لیے عبوری کابینہ تشکیل نہیں پاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کیا جائے۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد پہلے سے جاری سیاسی مظاہرے منگل کو پر تشدد صورت اختیار کر گئے۔

ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ایک شخص ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق حزب مخالف کے حامیوں نے متعدد جگہوں پر دیسی ساختہ بموں کے دھماکے کیے اور کئی مقامات پر ریل کی پٹڑیاں بھی اکھاڑ دیں۔

الیکشن کمیشن نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ عام انتخابات کے لیے پولنگ پانچ جنوری کو ہو گی۔

حزب مخالف کی جماعت بنگلہ دیش نیشنل پارٹی’’بی این پی‘‘ کا مطالبہ تھا کہ جب تک انتخابات کی نگرانی کرنے کے لیے عبوری کابینہ تشکیل نہیں پاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہ کیا جائے۔

بی این پی نے وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی موجودگی کے بغیر کسی بھی غیر جانبدار عبوری حکومت کے قیام تک انتخابات کروانے کی کوششوں کو مسترد کیا ہے۔

بنگلہ دیش میں دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دو بڑی جماعتوں عوامی لیگ کی شیخ حسینہ واجد اور بی این پی کی بیگم خالدہ ضیا ہی برسر اقتدار آتی رہی ہیں اور ان کے درمیان جاری خلش کا خاتمہ نہ ہونے کی وجہ سے انتخابات کے موقع پر یہاں شدید کشیدہ حالات دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ملک میں ہونے والے مظاہروں کے دوران کم ازکم 30 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG