رسائی کے لنکس

سفارتی عہدیدار کو تحویل میں لینے پر بنگلہ دیش کا پاکستان سے احتجاج


بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد (فائل فوٹو)

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد (فائل فوٹو)

گزشتہ ماہ ہی پاکستان نے اسلام آباد سے ایک بنگلہ دیشی سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جب کہ دسمبر میں بنگلہ دیش نے بھی ایک پاکستانی سفاتکار کو جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران تناؤ کی کیفیت رہی ہے اور منگل کو ہی ڈھاکا نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے اسلام آباد میں اپنے ایک سفارتکار کو چند گھنٹوں تک تحویل میں لیے جانے پر احتجاج کیا۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق پیر کو ڈھاکا میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک عہدیدار کو "مشتبہ نقل و حرکت" پر تحویل میں لیا گیا تھا جس کے بعد اسلام آباد میں بھی حکام نے ایک بنگلہ دیشی سفارتی عہدیدار کو کچھ گھنٹوں تک تحویل میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا تھا۔

ڈھاکا میں وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر کیے بغیر خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کو بتایا کہ "ہم نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے اس واقعے پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔"

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے اس پر تاحال کوئی بیان یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بنگلہ دیش 1971ء تک پاکستان کا حصہ تھا لیکن ایک جنگ کے نتیجے میں علیحدہ ریاست بنا۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ شروع ہی رہا ہے لیکن 2010ء میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی طرف سے 1971ء کی جنگ میں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر جنگی جرائم میں ملوث اپنے شہریوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے قائم خصوصی ٹربیونل کے فیصلوں سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اس ٹربیونل کی طرف سے مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت اب تک 25 افراد کو موت کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں جن میں سے اکثر پر عملدرآمد بھی کیا جا چکا ہے۔

پاکستان ان سزاؤں پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ ٹربیونل کی کارروائی بین الاقوامی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتی اور ڈھاکا کو چاہیے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر بہتر مستقبل کی طرف دینا چاہیے۔

لیکن بنگلہ دیش کا موقف ہے کہ پاکستان کو اس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں اور وہ اس سے باز رہے۔

گزشتہ ماہ ہی پاکستان نے اسلام آباد سے ایک بنگلہ دیشی سفارتکار کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جب کہ دسمبر میں بنگلہ دیش نے بھی ایک پاکستانی سفاتکار کو جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا اور پاکستان نے اپنی اس سفارتکار کو واپس بلا لیا تھا۔

XS
SM
MD
LG