رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: ڈوبنے والی کشتی کے 100 مسافر تاحال لاپتا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امدادی کاموں میں فوج، ساحلی محافظ اور ’ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘ کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں پیر کو ڈوبنے والی کشتی کے ملبے کی تلاش کے لیے امدادی ٹیموں نے تیز لہروں کے باوجود منگل کو بھی اپنا کام جاری رکھا۔

تاہم پانی کے تیز بہاؤ کے باعث اُنھیں مشکلات کا سامنا ہے۔ کشتی میں 200 مسافر سوار تھے اور وہ پیر کو دریائے پدما میں ڈوب گئی تھی۔

عہدیداروں نے منگل کو بتایا کہ اب بھی 100 افراد لاپتا ہیں اور خدشہ ہے کہ وہ ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ کے مطابق کشتی میں سوار 100 مسافروں کو بچا لیا گیا تھا۔

امدادی کاموں میں فوج، ساحلی محافظ اور ’ان لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘ کے اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق کشتی میں سوار زیادہ تر افراد عید کی تعطیلات کے بعد واپس آ رہے تھے۔

کشتی ڈوبنے کے بعد مقامی لوگوں نے ماہی گیروں کے زیر استعمال کشتیوں اور ’سپیڈ بوٹس‘ کی مدد سے جائے حادثہ پر پہنچنے کی کوشش کی لیکن تیز لہروں کے باعث اُنھیں واپس آنا پڑا۔

بنگلہ دیش میں ہر سال بڑی تعداد میں لوگ کشتیوں کے حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں، اس ملک میں کشتیاں سفر کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

دریائے پدما بنگلہ دیش کا ایک بڑا دریا ہے اور لگ بھگ 130 ندی، نالے اور دریا اس میں ملتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ایسے حادثات کی عمومی وجوہات میں خستہ حال کشتیاں اور اُن میں گنجائش سے زیادہ افراد کا سوار ہونا شامل ہیں۔

اسی علاقے میں مئی میں کشتی کے حادثے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG