رسائی کے لنکس

یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں افراد ایک متمول کاروباری شخص کے گھر کے باہر ماہ رمضان میں خیرات وصول کرنے کے لیے جمع تھے۔

بنگلہ دیش میں جمعہ بھگدڑ مچنے سے 23 افراد ہلاک ہو گئے جن میں اکثریت خواتین کی بتائی جاتی ہے جب کہ مرنے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سینکڑوں افراد ایک متمول کاروباری شخص کے گھر کے باہر ماہ رمضان میں خیرات وصول کرنے کے لیے جمع تھے۔

پولیس افسر قمرالاسلام کے مطابق دارالحکومت ڈھاکہ سے 115 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میمن سنگھ شہر میں ہونے والے اس حادثے میں دیگر 30 زخمی ہو گئے ہیں جنہیں اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔

لوگ صبح چار بجے سے ہی تمباکو کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر کے گھر کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے تھے، اور جب اس کے گھر کا گیٹ کھولا گیا تو انہوں نے مفت کپڑے حاصل کرنے کے لیے تیزی سے اندر جانے کی کوشش کی جس سے بھگڈر مچ گئی۔

45 سالہ انبیا بیگم اپنی سات رشتہ دار خواتین کے ساتھ علی الصباح وہاں آئی تھی۔ ان میں سے ایک خاتون بھگدڑ میں ہلاک ہو گئی ہے۔

جب اس کی 60 رشتہ دار خاتوں کی لاش بازیاب کی گئی تو اس نے روتے ہوئے کہا، ’’اوہ اللہ، میں یہاں کیوں آئی؟ کیوں؟‘‘

بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ ایک ہزار کے قریب لوگ، جن میں سے بیشتر عمر رسیدہ عورتیں تھیں، تاجر کے گھر کے باہر جمع ہو گئے۔ یہ تاجر ہر سال عید سے پہلے کپڑے تقسیم کرتا ہے۔

حکام نے چھ لوگوں کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں تاجر بھی شامل ہے، کیونکہ اس نے اس موقع پر پولیس طلب نہیں کی تھی۔

جنوبی ایشیا میں مذہبی مقامات اور خیراتی اشیا کی تقسیم کے موقع پر بھگڈر کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG