رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: حزبِ اختلاف کے ایک اور رہنما کو سزائے موت


فائل

فائل

زاہد حسین حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت 'بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)' کے سابق مرکزی رہنما ہیں جو عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے مفرور ہیں۔

بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کی سماعت کرنے والے عدالتی ٹربیونل نے حزبِ اختلاف کے ایک اور رہنما کو ان کی غیر حاضری میں سزائے موت سنادی ہے۔

استغاثہ کے مطابق عدالت نے 70 سالہ زاہد حسین کو 1971ء کی جنگِ آزادی کے دوران قتلِ عام، جنسی زیادتی، مخالفین پر مذہب کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنے، جلاؤ گھیراؤ اور تشدد کا مرتکب قرار دیا ہے۔

زاہد حسین حزبِ اختلاف کی مرکزی جماعت 'بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)' کے سابق مرکزی رہنما ہیں جو عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے مفرور ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ وہ ان دنوں سوئیڈن میں مقیم ہیں جس کا بنگلہ دیش کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سال نومبر میں بھی اسی ٹربیونل نے دو دیگر اسلام پسند رہنماؤں کو "جنگی جرائم" کے الزامات میں ان کی غیر حاضری میں موت کی سزا سنائی تھی۔

سزا پانے والے ایک رہنما امریکی جب کہ دوسرے برطانوی شہری ہیں اور تاحال بنگلہ دیش کی حکومت ان دونوں افراد کو سزاؤں پر عمل درآمد کے لیے وطن واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

بنگلہ دیش کی 1971ء میں پاکستان سے آزادی کی تحریک کے دوران ہونے والے مبینہ "جنگی جرائم" کی تحقیقات پر مامور عدالتی ٹربیونل اور اس کی کارروائی پر بنگلہ دیش کی حزبِ اختلاف کی جماعتیں، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں اور عالمی ادارے سخت تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔

عالمی اداروں کا موقف ہے کہ عدالتی ٹربیونل کی کارروائی غیر شفاف اور بین الاقوامی اصولوں سے متصادم ہے تاہم بنگلہ دیش کی حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

بنگلہ دیش کی وزیرِاعظم شیخ حسینہ واجد کے مخالفین ان پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اس ٹربیونل کے ذریعے حزبِ اختلاف کی دو بڑی اور اپنی روایتی حریف جماعتوں - بی این پی اور جماعتِ اسلامی – کے خلاف انتقامی کارروائیاں کر رہی ہیں۔

عدالتی ٹربیونل اب تک ان دونوں جماعتوں کے نصف درجن سے زائد رہنماؤں کو موت یا عمر قید کی سزا سناچکا ہے جن میں سے بیشتر کی اپیلیں بنگلہ دیش کی اعلیٰ عدالتوں سے یا تو مسترد ہوچکی ہیں یا زیرِسماعت ہیں۔

XS
SM
MD
LG