رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش کے ڈاکٹر محمدیونس کی اپنے ہی قائم کردہ مائیکروفنانسنگ بینک سے برطرفی

  • لارل بومین

بنگلہ دیش کے ڈاکٹر محمدیونس کی اپنے ہی قائم کردہ مائیکروفنانسنگ بینک سے برطرفی

بنگلہ دیش کے ڈاکٹر محمدیونس کی اپنے ہی قائم کردہ مائیکروفنانسنگ بینک سے برطرفی

آسان شرائط پرچھوٹے قرضوں کی فراہمی کے نظام کو مائیکرو فنانسنگ کہا جاتا ہے ۔ بنگلہ دیش میں اس کے بانی ڈاکٹر محمد یونس ہیں جنہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں نوبیل انعام سے بھی نوازا گیا۔ مگر حال ہی میں بنگلہ دیش کی حکومت نے چند وجوہات کی بنا پر انہیں اپنے گرامین بینک کی سربراہی سے برطرف کردیا، جس پر ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

محمد یونس بنگلہ دیش کے قومی ہیرو رہے ہیں ، غریبوں کے دوست، پرستاروں کی محبت کے عادی ،اور تیس سال سے اپنے ملک میں عورتوں کو ان کے پاؤں پر کھڑا کرنے کی اولین کوشش گرامین بینک کو کامیاب کرنے میں مصروف ۔ عورتوں کو چھوٹے قرضے دینے کا جو نظام انہوں نے قائم کیا ہے ، اسے گزشتہ سال واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والی ایک کانفرنس کےدوران پائیدار ترقی کا نام دیا گیا۔

ڈاکٹر یونس نے واشنگٹن میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بینک غریبوں کو قرضے نہییں دیتے ۔۔غریب کو ہر کمیونٹی ، ہر ملک اور تاریخ کے ہر دور میں لون شارکس یا قرضہ کے جال میں جکڑنے والوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اور بینک کہتے ہیں کہ انہیں قرضے دینا ممکن نہیں ۔ ہم نے ایسا کرنے کی جرات کی ،تو پتہ چلا کہ بینک نہ صرف غریبوں کو بلکہ خواتین کو بھی قرضے نہیں دینا چاہتے تھے ۔ چاہے وہ کتنی ہی خوشحال عورت ہو ۔ بینکنگ کے سسٹم کے اندر کچھ امتیازی رویے ہیں ، تو ہم اپنے کام سے اسے ٹھیک کرنا چاہتے تھے ۔ ہمارے کام میں آدھی سے زیادہ خواتین ہیں ۔ جن کو ہم قرضہ دیتے ہیں۔ خواتین بہت ہچکچاتی تھیں کہ آپ ہمارے شوہر سے بات کریں ، ہمیں اس بارے میں کچھ پتہ نہیں ۔ ہم نے بہت تحمل سے اپنا اعتماد قائم کرنے کی کوشش کی اور کامیاب رہے ۔

ڈاکٹر محمد یونس اور ان کے قائم کردہ گرامین بینک کو مائیکرو فنانس کے شعبے میں ان کی خدمات پر 2006ء میں نوبیل انعام دیا گیا تھا اور داکٹر یونس کے مطابق اب تک ا80 لاکھ عورتوں کو ان کے بینک کے ذریعے آسان شرائط پر چھوٹے قرضے دیئے گئے ہیں مگر 70 سالہ محمد یونس ان دنوں اپنے ملک میں تنقید کی زد میں ہیں ۔ بنگلہ دیش کی حکومت نے انہیں ریٹائرمنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی پر گرامین بینک کے سربراہ کے عہدے سے برطرف کردیا ہے اوربنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے بھی حکومت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا ہے ۔

بنگلہ دیش میں بینک ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے قوانین کے مطابق ریٹائرمنٹ کی زیادہ سے زیادہ عمر ساٹھ سال ہے ۔

یہ عدالتی حکم ڈاکٹر محمد یونس پر بینک کے منصوبوں کی رقم کے غیر مناسب استعمال کے الزامات سامنے آنے کے بعد آیا ہے ۔ واشنگٹن میں ہونے والی ایک مائیکرو کریڈٹ کانفرنس میں وڈیو لنک کے ذریعے اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے محمد یونس کا کہنا تھا کہ ان کی برطرفی سیاسی ہے اور حکومت بنگلہ دیش گرامین بینک میں پچیس فیصد سے زیادہ شئیرز حاصل کرنا چاہتی ہے ۔

ڈاکٹر یونس کی مشکلات ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب چھوٹے قرضوں کی فراہمی کے ادارے دنیا کے کئی ملکوں میں کڑی تنقید کی زد میں ہیں ۔ غربت کے خاتمے کے دعوے بھارت جیسے ملکوں میں چیلنج کئے جا رہے ہیں ، جہاں حکومت خواتین میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے واقعات اورقرضے کی وصولی کے لئے اختیار کئے گئے سخت طریقوں کے درمیان تعلق پر تحقیق کر رہی ہے ۔اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مائیکر فنانس اداروں کی شرح سود کو کنٹرول کیا جائے جو 30 فیصد کی بلند ترین شرح تک پہنچ سکتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG