رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش: محمد یونس نے گرامین بینک کی سربراہی چھوڑ دی


بنگلہ دیش: محمد یونس نے گرامین بینک کی سربراہی چھوڑ دی

بنگلہ دیش: محمد یونس نے گرامین بینک کی سربراہی چھوڑ دی

بنگلہ دیش کی نوبیل انعام یافتہ شخصیت اورچھوٹے قرضوں کے اپنے نظریے کی بنا پر دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے محمد یونس نے اپنے قائم کردہ گرامین بینک کی سربراہی چھوڑ دی ہے۔ انہیں بنگلہ دیش کی حکومت نے ایک حکم کے ذریعے اپنے عہدے سے برطرف کیاتھا اور اس فیصلے کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے یونس کی اپیل مسترد کردی تھی۔

محمد یونس نے جمعرات کے روز کہا کہ وہ غیر ضروری مسائل سے بچنے کے لیے گرامین بینک چھوڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی نائب نورجہاں بیگم منیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالیں گی۔

حکومت نے محمدیونس کو مارچ میں چھوٹے قرضوں کے بینک گرامین کی سربراہی سے یہ کہتے ہوئے ہٹانے کا حکم دیا تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے لیے سرکاری طورپر مقرر ہ کردہ 60 سال کی عمر کی حد عبور کرچکے ہیں ۔

محمد یونس اب 70 سال کے ہیں۔ ان کے حامیوں کا خیال ہے کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ انہوں نے 2007ء میں کچھ وقت کے لیے اپنی ایک سیاسی جماعت قائم کی تھی۔

معاشی ماہرین کا کہناہے کہ محمد یونس کے غریب افراد کے لیے آسان شرائط پر چھوٹے قرضوں کے نظریے سے بنگلہ دیش اور دنیا کے کئی ملکوں میں لاکھوں لوگوں کو اپنے پاؤں پرکھڑا ہونے میں مدد ملی ہے۔

انہیں اپنی نمایاں خدمات کے اعتراف میں 2006ء میں نویبل امن انعام سے نوازا گیاتھا۔

XS
SM
MD
LG