رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش محمد یونس کی برطرفی کے تنازع کے حل پر آمادہ


بنگلہ دیش محمد یونس کی برطرفی کے تنازع کے حل پر آمادہ

بنگلہ دیش محمد یونس کی برطرفی کے تنازع کے حل پر آمادہ

بنگلہ دیشی حکومت نے کہا ہے کہ وہ نوبیل انعام یافتہ بینکار محمد یونس کو ان ہی کے قائم کردہ بینک کی سربراہی سے سبکدوش کرنے کے معاملے پر مذاکرات کےلیے تیار ہے۔

بنگلہ دیش کی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بدھ کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت معاملے کا ’کوئی حل تلاش کرنے پر آمادہ ہے تاہم اس کے لیے محمد یونس کو آگے بڑھ کر حکومت سے تعاون کرنا ہوگا‘۔

بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے تنازعہ کے حل پر آمادگی کا اظہار امریکی نائب وزیرِ خارجہ رابرٹ بلیک کی جانب سے دیے گئے بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے عالمی شہرتِ یافتہ بینکار محمد یونس کو انہی کے قائم کردہ ’گرامین بینک‘ کی سربراہی سے ہٹانے کی حکومتی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

بنگلہ دیش کے دورے پر آئے امریکی نائب وزیرِ خارجہ نے منگل کے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ محمد یونس کی کوششوں کی بدولت کئی لاکھ خواتین غربت سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں اور ان کی برطرفی سے نہ صرف ’گرامین بینک‘ کی ساکھ اور کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ اس سے بنگلہ دیش کی سول سوسائٹی پر بھی منفی اثرات پڑینگے جس پر ان کے بقول امریکہ کو تشویش ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے ملک کے مرکزی بینک کے اس حکم نامے کو قانونی قرار دے دیا تھا جس میں70 سالہ محمد یونس کو ’گرامین بینک‘ کی سربراہی سے سبکدوش کردیا گیا تھا۔

حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ محمد یونس نے بینک کے سربراہ کے عہدے پر برقرار رہ کر ریٹائرمنٹ کے حوالے سے ملکی قانون کی خلاف ورزی کی ہے جس کی رو سے انہیں 60 سال کی عمر کے بعد یہ عہدہ چھوڑ دینا چاہیے تھا۔

’گرامین بینک‘کے 25 فی صد حصص بنگلہ دیش کے مرکزی بینک کے پاس ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سےمحمد یونس پر بینک کے معاملات میں ہیر پھیر کے الزمات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

محمد یونس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی برطرفی کے متعلق ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس کا فیصلہ آنا باقی ہے۔

محمد یونس کے حامیوں کے بقول نوبیل انعام یافتہ بینکار نے 2007ء میں اپنی علیحدہ سیاسی جماعت قائم کرنے کی کوشش کی تھی اور حکومت کی جانب سے ان کی برطرفی کا حالیہ فیصلہ دراصل انتقامی کاروائی ہے۔

XS
SM
MD
LG