رسائی کے لنکس

بنوں: فرار ہونے والے قیدیوں میں 143 دوبارہ جیل میں

  • شمیم شاہد

صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی ضلع بنوں میں جیل پر گزشتہ ہفتے طالبان عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد فرار ہونے والے قیدیوں کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں اور حکام کا کہنا ہے اب تک بھاگ جانے والوں میں سے 143 قیدی دوبارہ جیل پہنچ چکے ہیں۔

صوبائی سیکرٹری داخلہ اعظم خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 35 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے جب کہ 108 نے رضاکارانہ طور پر خود کو جیل حکام کے حوالے کر دیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ فرار ہونے والے تمام قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کی چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جبکہ بنوں انتظامیہ نے صوبائی حکومت کے ذریعے دیگر اضلاع اور مختلف قبائلی علاقوں کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدیداروں سے بھی اس سلسلے میں رابطے قائم کر رکھے ہیں

’’وفاقی حکومت اور فاٹا انتظامیہ سے ہم نے کہا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں ان قیدیوں کی گرفتاری کے لیے اپنے اختیارات کے مطابق کارروائی کریں کیونکہ شمالی وزیرستان فاٹا کا علاقہ ہے جو صوبائی حکومت کے کنڑول میں نہیں ہے۔‘‘

گزشتہ ہفتے بنوں کی مرکزی جیل پر نصف شب کے بعد جدید ہتھیاروں سے مسلح جنگجوؤں نے حملہ کر کے دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث 384 قیدیوں کو فرار کرایا۔ فرار کرائے گئے قیدیوں میں کم از کم 20 کو موت کی سزا سنائی جا چکی تھی جن میں سابق صدر پرویز مشرف پر ناکام قاتلانہ حملے میں ملوث پاک فضائیہ کا سابق اہلکار سرفہرست تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر جیل حملے کا مقصد بھی اس خطرناک قیدی کو چھڑوانا تھا۔ طالبان شدت پسندوں نے پہلے ہی اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور انھوں نے حملے کی ایک ویڈیو فلم بھی جاری کی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG