رسائی کے لنکس

بنوں میں کرفیو نافذ، ہلاک شدگان کی نماز جنازہ

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

بنوں میں ایک روز قبل پولیس کے ایک تربیتی مرکز پر دو خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ جمعے کے روز ادا کردی گئی جب کہ اس میں زخمی ہونے والے ضلعی پولیس کے سربراہ اقبال مروت کو علاج کے لیے اسلام آباد منتقل کردیا گیا ہے تاہم ان کی حالت ابھی تک تشویشناک ہے۔

بنوں میں جمعرات کی شام ہونے والے اس واقعے میں 11 پولیس اہلکاروں سمیت 15 ہلاک اور 30 زخمی ہوگئے تھے۔ زخمیوں میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ علاقے میں کرفیو نافذ ہے اور سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں شروع کررکھی ہیں۔ تاحال کسی نے ان خودکش دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ حملے ایک ایسے روز ہوئے ہیں جب امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دو طرفہ امور پر بات چیت کی۔

دریں اثناء امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز اورافغانستان میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے سربراہ جنرل سٹینلی میکرسٹل نے جمعے کو راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی اوردوطرفہ پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ بنوں قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے ملحق ہے جسے شدت پسندوں کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے جہاں سے یہ عسکریت پسند افغانستان میں داخل ہوکربین الاقوامی افواج کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے بدھ کو پشاور سے ملحقہ خیبر ایجنسی کے علاقے میں جمرود میں بھی سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ اسی روز وادی تیراہ میں پاکستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر گرنے کے بعد وہاں امدادی کارروائی کے سلسلے میں جانے والی ٹیم پر عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ایک بریگیڈیئر ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔

سکیورٹی فورسز نے ان واقعات کے بعد وادی تیراہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائی شروع کردی اور دعویٰ کیا ہے کہ اس میں 30عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG