رسائی کے لنکس

صدر اوباما کا دورہ فلپائن، دوطرفہ معاہدے پر دستخط


دورہ فلپائن میں دونوں اتحادی ملکوں کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ پر دستخط بھی کیے گئے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ایشیا کا اپنا ایک اہم دورہ پیر کو مکمل کیا۔ اُنھوں نے اپنے دورے کے آخری مرحلے میں فلپائن سے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

دورہ فلپائن میں دو اتحادی ملکوں کے درمیان نیا فوجی معاہدہ طے پانے پر ملک کی بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے نالاں ہیں۔

دارالحکومت منیلا میں پیر کو تقریباً 100 مظاہرین نے پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد محل کے قریب ٹریفک میں خلل ڈالا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے 1990ء کے اوائل میں امریکی فوجی اڈے بند کرنے سے ہونے والے جمہوری فوائد ختم ہو جائیں گے ان اڈوں کو بند کرنے سے تقریباً ایک صدی تک فلپائن میں امریکی موجودگی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

مظاہرین کے ایک رہنما کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر اور فلپائن کے وزیر دفاع کے دستخط سے ہونے والے معاہدے سے آزادی کو محدود کر دیا گیا ہے۔

تاہم صدر براک اوباما نے یہ کہہ کر ان خدشات کو دور کرنے کو کوشش کی کہ یہ معاہدہ فلپائن پر امریکی غلبہ کے بارے میں نہیں بلکہ یہ قدرتی آفات اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوری جوابی کارروائیوں کرنے کے لیے ضروری تربیت اور مشقوں میں تعاون کے لیے ہے۔

فلپائن نے یہ معاہدہ جنوبی بحیرہ چین ’ساوتھ چائنہ سی‘ میں چین کے بڑھتے کردار کی وجہ سے کیا ہے جہاں سمندری اور نواحی علاقے پر چین اور فلپائن دونوں ہی حق ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

فلپائن اپنی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی لا رہا ہے اور اب اس کا محور اندرونی سکیورٹی کی بجائے بیرونی سکیورٹی مشن پر ہو گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ نئے دفاعی معاہدے کی وجہ سے امریکی فورسز فلپائن کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھا سکیں گی اور اس معاہدے کا مقصد اتحادی ملک کو کئی قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔
XS
SM
MD
LG