رسائی کے لنکس

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے سربراہ مستعفی


بی بی سی کے مستعفی ہونے والے سربراہ جارج اینٹ وسل

بی بی سی کے مستعفی ہونے والے سربراہ جارج اینٹ وسل

اُنھوں نے یہ فیصلہ بی بی سی پر نشر ہونے والی رپورٹ کے بعد کیا جس میں ایک سرکردہ سیاستدان پر بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔

برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کے سربراہ جارج اینٹ وسل اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

اُنھوں نے یہ فیصلہ ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد کیا ہے جس میں ایک سرکردہ سیاستدان پر بچوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے اسکینڈل میں ملوث ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔

جارج اینٹ وسل کو تقریباََ دو ماہ قبل بی بی سی کا ڈائریکٹر جنرل بنایا گیا تھا۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ادارے کے ایڈیٹر-ان-چیف ہونے کے ناطے وہ قطعی طور پر اس کے تمام مواد کے ذمہ دار بھی تھے۔

مرکزی لندن میں بی بی سی کے صدر دفتر کے باہر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے جارج اینٹ وسل نے کہا کہ دو نومبر کو نیوز نائٹ میں ناقابل قبول صحافتی معیار پیش کرنے کے بعد اُن کے لیے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے مستعفی ہونا ہی ’’باعزت‘‘ راستہ تھا۔

بی بی سی کے ’نیوز نائٹ‘ پروگرام نے دو نومبر کو خبر نشر کی تھی کہ کنزرویٹو پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما نے ستر اور اسی کی دہائیوں میں ویلز میں بچوں کے فلاحی مرکز پر لڑکوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کی تھی۔

اس پروگرام میں متنازع سیاست دان کا نام نہیں لیا گیا لیکن انٹرنیٹ ویب سائٹس پر اُن کی شناخت لارڈ میک الپائن کے طور پر کی گئی جو کنزرویٹو پارٹی کے سابق خزانچی تھے۔

تاہم الزام تراشی کرنے والے نے گزشتہ ہفتے اپنا الزام یہ کہہ کر واپس لے لیا کہ الپائن کی تصویر کو اُنھوں نے غلطی سے مشتبہ شخص کی تصویر سمجھ لیا تھا۔

جارج کو نیوز نائٹ پروگرام کی طرف سے برطانوی ٹی وی کے ممتاز پیش کار جمی سیول کے خلاف چار دہائیوں تک سینکڑوں لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی بدسلوکی کے الزامات کی تحقیقات بند کرنے پر بھی کڑی تنقید کا سامنا تھا۔
XS
SM
MD
LG