رسائی کے لنکس

بنگلہ دیش انتخابات: بین الاقوامی برادری کے شکوک و شبہات

  • شہناز نفيس

شیخ حسینہ واجد

شیخ حسینہ واجد

تجزیہ کار مشتاق احمد مہر کی نظر میں، بنگلہ دیش کی موجودہ صورتِ حال کی ذمہ داری عوامی لیگ کی سیاسی ناپختگی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے جذباتی فیصلے ہیں

بنگلہ دیش میں پانچ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج پر، جس میں حکمراں جماعت عوامی لیگ کامیاب ہوئی ہے، بین الاقوامی برادری شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہے۔

پیر کے روز امریکی محکمہٴخارجہ نے اِن انتخابات کے نتائج پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اِن نتائج سے بنگلہ دیش کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی نہیں ہوتی۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی پُرامن اور سب کی شرکت والے انتخابات کا انعقاد نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی برادری کی جانب سے بنگلہ دیش میں اِن انتخابات کے نتائج پر تحفظات کی وجوہات بیان کرتے ہوئے، امریکی ریاست سیاٹل میں ’گوبل انسٹی ٹیوٹ فور سوشل جسٹس‘ کے ڈائریکٹر، پروفیسر طیب محمود نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ووٹ ڈالنے کا کم تناسب، حزب اختلاف اور اُس کی جماعتوں کا بائیکاٹ اور امریکہ اور یورپی یونین کا بنگلہ دیش میں اپنے مبصرین نہ بھیجنے کا فیصلہ الیکشن کو غیر معتبر بنا دیتا ہے۔

پروفیسر طیب محمود کہتے ہیں کہ اقتصادی ترقی کی جانب تیزی سے گامزن بنگلہ دیش پر اِن انتخابات کے نتائج کچھ زیادہ مثبت اثرات مرتب نہیں کریں گے۔ وہ امریکہ اور یورپ میں بنگلہ دیش کی بے شمار منڈیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب موجودہ سیاسی انتشار کی وجہ سے نہ صرف مغربی ممالک کی سرمایہ کاری میں بھی خلل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

بنگلہ دیش ہر لحاظ سے خطے کا ایک اہم ملک تصور کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں انتخابات کے بعد، بظاہر سیاسی کشمش کے عمومی طور پر پورے خطے پر اثرات کے بارے میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے سابق سفیرمشتاق احمد مہر نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ بنگلہ دیش اور بھوٹان اس وقت نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ معاشی ترقی کے اعتبار سے بھی خطے کے نسبتاً زیادہ محفوظ ملک خیال کیے جاتے ہیں۔

اور، بقول اُن کے، اگر بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام جاری رہتا ہے تو ایشیا ٴ میں ’فِری ٹریڈ زون‘ کے لیے کی جانے والی کوششوں پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں اور سارک ادارے کی سرگرمیاں بڑی حد تک متاثر ہو سکتی ہیں۔

بنگلہ دیش میں بظاہر سیاسی تعطل اور عدم استحکام سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کیا اقدامات اُٹھانے چاہئیں۔ اِس سوال کا جواب دیتے ہوئے مشتاق احمد مہر کا کہنا تھا کہ آئندہ یہ سیاسی انتشار جاری رہے گا اور اُن کی نظر میں عوامی لیگ حکومت کے پاس اس مسئلے کے دو حل ہیں۔ یا تو حالیہ انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے، عبوری حکومت بنانے کے بعد پھر سے انتخابات کا انعقاد کیا جائے، یا پھر حزبِ اختلاف کی جماعت، بنگلہ دیش نیشلسٹ پارٹی کو اعتماد میں لے کر بات چیت کے عمل کا آغاز کیا جائے۔

مشتاق مہر کی نظر میں بنگلہ دیش کی موجودہ صورتِ حال کی ذمہ داری عوامی لیگ کی سیاسی ناپختگی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے جذباتی فیصلے ہیں۔

انتخابات میں ایک دفعہ پھر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت عوامی لیگ کی سربراہ اور ملک کی موجودہ وزیر اعظم حسینہ واجد نے اپنی جماعت کی کامیابی کا دفاع کرتے ہوئے، الیکشن کے نتائج کو منصفانہ قرار دیا ہے، جب کہ اپوزیشن ووٹنگ پر احتجاج کے لیے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرچکی ہے۔

تفصیلی انٹرویو سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG