رسائی کے لنکس

عالمی کپ کا ایک اور اپ سیٹ، بنگلہ دیش نے انگلینڈ کو ہرادیا

  • عمیر ریاض

عالمی کپ کا ایک اور اپ سیٹ، بنگلہ دیش نے انگلینڈ کو ہرادیا

عالمی کپ کا ایک اور اپ سیٹ، بنگلہ دیش نے انگلینڈ کو ہرادیا

کرکٹ ورلڈ کپ 2011ء کے گروپ "بی" کے میچ میں میزبان بنگلہ دیش نے انگلینڈ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد 2 وکٹوں سے شکست دے کر عالمی کپ کا ایک اور اپ سیٹ کردیا ہے۔

ہر لمحہ رنگ بدلتے میچ میں انگلینڈ کی پوری ٹیم پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50 ویں اوور میں 225 رنز بنا کر آئوٹ ہوگئی تھی۔ بنگلہ دیش نے مقررہ ہدف آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 49 اوورز میں حاصل کرلیا۔

جمعہ کے روز چٹا گانگ کے "ظہور احمد چوہدری اسٹیڈیم" میں کھیلے گئے میچ میں میزبان ٹیم کے کپتان شکیب الحسن نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کرکے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا جن کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ گرائونڈ میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم فائدہ میں رہے گی۔

تاہم بنگلہ دیشی کپتان کا فیصلہ اس وقت درست دکھائی دینے لگا جب انگلش بلے بازمیزبان ٹیم کے بالرز کا سامنا کرنے میں واضح مشکلات کا شکار نظر آئے اور پوری ٹیم 4ء49 اوور میں صرف 225 رنز بناکر آئوٹ ہوگئی۔

میچ کے 17 ویں اوور تک 53 کے مجموعی اسکور پر انگلینڈ کے تین مایہ ناز بلے باز، میٹ پرائر (15)، اینڈریو اسٹراس (18) اور ایان بیل (5)پویلین لوٹ چکے تھے اور میزبان بنگلہ دیش میچ پر پوری طرح حاوی نظر آرہا تھا۔

تاہم عالمی کپ 2011ء کا اپنا پہلا میچ کھیلنے آیان مورگن اور جوناتھن ٹراٹ نے اس موقع پر انگلش ٹیم کو مشکل صورتِ حال سے نکالا اور چوتھی وکٹ کی شراکت میں 109 رنز کا اضافہ کرکے انگلینڈ کے گرتے ہوئے مورال اور رن ریٹ کو سہارا فراہم کیا۔

آیان مورگن کو گزشتہ ہفتے کیون پیٹرسن کے ان فٹ ہوجانے کے بعد انگلش ٹیم میں شامل کیا گیا تھا اور وہ تین روز قبل ہی بنگلہ دیش پہنچے ہیں۔ مورگن 8 چوکوں کی مدد سے 63 رنز بنا کر 39 ویں اوور میں کیچ آئوٹ ہوئے تو انگلینڈ کا مجموعی اسکور 162 تھا۔

انگلینڈ کی پانچویں وکٹ 182 کے مجموعی اسکور پر گری جب 44 ویں اوور میں جوناتھن ٹراٹ بھی 67 رنز بنا کر آئوٹ ہوگئے۔ ٹراٹ کے لوٹنے کے بعد انگلینڈ کی لوئر آرڈر بیٹنگ لائن بنگلہ دیشی بالرز کے سامنے نہ ٹہر سکی اور باقی تمام چھ کھلاڑی مجموعی اسکور میں صرف 43 رنز کا اضافہ کرکے پویلین لوٹ گئے۔

بنگلہ دیش کی جانب سے نعیم اسلام، عبدالرزاق اور شکیب الحسن نے دو، دو کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا۔

جواباً بنگلہ دیش کے ابتدائی بلے بازوں نے 226 رنز کے تعاقب میں اپنی اننگز کا پر اعتماد آغاز کیا۔ بنگلہ دیش کی پہلی وکٹ 9ویں اوور میں تمیم اقبال کی 52 کے مجموعی اسکور پر گری۔انہوں نے 38 رنز بنائے۔

13 ویں اوور میں جنید صدیقی 12 رن بنا کر رن آئوٹ ہوگئے۔ اگلے ہی اوور میں رقیب الحسن 0 کے اسکور پر اجمل شہزاد کا نشانہ بنے تو 73 کے اسکور پر بنگلہ دیش تین اہم بلے بازوں سے محروم ہوچکا تھا۔

اس موقع پر میزبان ٹیم کی امیدوں پر اوس پڑتی نظر آئی تاہم وکٹ کا ایک اینڈ سنبھالے رکھنے والے اوپنر عمر القیس اور کپتان شکیب الحسن نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں82 رنز بناکر میچ پر بنگلہ دیش کی گرفت ایک بار پھر مضبوط بنادی۔

عمر القیس 31 ویں اوور کی آخری بال پر ایک کے بعد دوسرا رن لینے کی کوشش کرتے ہوئے 60 کے اسکور پر رن آئوٹ ہوئے تو بنگلہ دیش کا مجموعی اسکور 155 تھا۔ پانچ اوور بعد مجموعی اسکورمیں صرف 7 رنز کا اضافہ کرکے کپتان شکیب الحسن گرایم سوان کی گیند کا نشانہ بن کرپویلین لوٹ گئے۔ انہوں نے 32 رنز بنائے۔

کپتان شکیب کی پویلین روانگی کے بعد 166 کے مجموعی اسکور پر بنگلہ دیش کو مشفق الرحیم (6) اور نعیم اسلام (0) کی وکٹوں سے محروم ہونا پڑا۔ 40 ویں اوور میں عبدالرزاق بھی 1 رن بنا کر سوان کی ایک گیند پر ٹم برسنن کے ہاتھوں کیچ آئوٹ ہوئے تو 169 کے اسکور پر بنگلہ دیش کے آٹھ کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔

اس نازک صورتِ حال میں محموداللہ اور شفیع الاسلام نے نویں وکٹ کی میچ وننگ شراکت قائم کی تو بنگلہ دیش کی فتح کی امیدیں ایک بار پھر بحال ہوتی نظر آئیں اور تماشائیوں کے انکلوژرز میں رونق لوٹ آئی۔

دونوں بلے بازوں کی محتاط اور بروقت ہٹنگ سے انگلش بالرز واضح طور پر سراسیمہ نظر آئے۔ دونوں کھلاڑیوں کی 58 رنز کی شاندار پارٹنر شپ کی بدولت بنگلہ دیش نے مطلوبہ ہدف 49 اوورز میں حاصل کرلیا۔ محمود نے 21 جبکہ شفیع نے 24 رنز بنائے۔

انگلینڈ کی جانب سے اجمل شہزاد نے 3 اور گریم سوان نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

XS
SM
MD
LG