رسائی کے لنکس

سزائے موت پر عمل درآمد میں احتیاط لازم: محکمہٴ خارجہ


فائل

فائل

’وہ ملک جہاں موت کی سزا دی جاتی ہے، اُن کے لیے لازم ہے کہ ایسا کرتے وقت، قانونی چارہ جوئی کے اعلیٰ ترین معیار اور منصفانہ مقدمے کی ضمانت کے عین مطابق، انتہائی احتیاط برتا جائے‘

امریکی محکمہٴخارجہ کی قائم مقام خاتون ترجمان، میری ہارف نے کہا ہے کہ ’امریکہ سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی کے دوران سرزد ہونے والے مظالم کے معاملے پر، انصاف کے تقاضے پورے کیے جانے کا حامی ہے‘۔

تاہم، ہفتے کو جاری ہونے والے ایک اخباری بیان میں، ترجمان نے کہا ہے کہ،’ایسا کرتے ہوئے، انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل (آئی سی ٹی) کے مقدمات کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے چلایا جانا چاہیئے، جو بین الاقوامی معاہدوں اور ضمانتوں سے مطابقت رکھتا ہو، جن پر بنگلہ دیش نے دستخط کیے ہوئے ہیں، اور جن کا تعلق بین الاقوامی سمجھوتوں سے ہے، جن میں بین الاقوامی نظیر، معاہدے اور شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق ضوابط و اقرارنامے شامل ہیں‘۔

بیان میں کہا گیا ہے ’وہ ملک جہاں موت کی سزا دی جاتی ہے، اُن کے لیے لازم ہے کہ ایسا کرتے وقت، قانونی چارہ جوئی کے اعلیٰ ترین معیار اور منصفانہ مقدمے کی ضمانت کو مد نظر رکھتے ہوئے، انتہائی احتیاط برتی جائے‘۔

ترجمان نے بنگلہ دیش میں محمد قمرالزمان کے خلاف سرکاری استغاثے کے مقدمے میں بین الاقوامی جرائم کے ٹربیونل اور بنگلہ دیشی عدالت عظمیٰ کی اپیلز کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزاؤں کی پاسداری کا اعادہ کیا ہے، جس کے لیے، بیان میں کہا گیا ہے کہ، ’اس فیصلے میں، عدالتی عمل پر اولین توجہ مرتکز کرنا خصوصی دلچسپی کا باعث ہے‘۔

بقول ترجمان، ’ہم سمجھتے ہیں کہ قومی اور بین الاقوامی طور پر اس قانونی عمل کی وسیع تر اور پائیدار حمایت تبھی ممکن ہوگی جب موت کی سزا دیتے وقت اور اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے، انتہائی احتیاط اور (قوانین و ضوابط کا) خیال رکھا جائے گا‘۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’امریکہ سنہ 1971 میں بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران مظالم سرزد ہونے کے معاملے پر انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا حامی ہے‘۔

’ایسا کرتے ہوئے، انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل (آئی سی ٹی) کے مقدمات کو منصفانہ اور شفاف طریقے سے چلایا جانا چاہیئے، جو بین الاقوامی ضمانتوں سے مطابقت رکھتے ہوں، جن پر بنگلہ دیش کے دستخط ہیں، اور جن کا تعلق بین الاقوامی سمجھوتوں سے ہے، جن میں بین الاقوامی نظیر، معاہدے اور شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق اقرار نامے شامل ہیں‘۔

خاتون ترجمان نے مزید کہا کہ ’اِس ضمن میں، امریکہ نے حاصل ہونے والی پیش رفت مد نظر رکھی ہے۔ لیکن، وہ اب بھی اس بات پر قائم ہے کہ آئی سی ٹی کی قانونی چارہ جوئی میں مزید بہتری لانے سے عدالتی کارروائی کو داخلی اور بین الاقوامی فرائض پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا‘۔

’اور، جب تک ان فرائض کو بطور احسن پورا کیا جائے، بہتر یہ ہوگا کہ سزائے موت پر عمل درآمد سے اجتناب کیا جائے، چونکہ موت کی سزا پر عمل کے بعد، کوئی مزید مداوا باقی نہیں رہتا‘۔

XS
SM
MD
LG