رسائی کے لنکس

ملازم رکھتے ہوئے احتیاط کیجئے


ماہرین کا کہنا ہے کہ، ’کسی نوکر کو رکھنے سے پہلے اپنے علاقے کے تھانے سے فارم حاصل کیا جائے اور اس میں ملازم کی تمام تفصیلات، شناختی کارڈ کی کاپی اور تصویر تصدیق کے بعد جمع کروائی جائے تو کسی واردات کی صورت میں مجرموں تک پہنچنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔‘

اگر کسی سے یہ سوال کیا جائے کہ کیا انھوں نے اپنے گھر میں کسی چور یا ڈاکو کو پناہ دے رکھی ہے؟ تو شاید وہ اس سوال پر حیران ہو اور جواب دینے کے بجائے یہ سوال کرے کہ کوئی آپنے ہی گھر میں کسی چور یا ڈاکو کو پناہ کیوں دے گا۔

اس سوال کا جواب پاکستان کے مشہور فلاحی ادارے ایدھی فاونڈیشن سے تعلق رکھنے والی زینت آصف ایدھی نے دیا ، وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ لوگوں نے اپنے گھروں میں چور ڈاکو پالے ہوئے ہیں۔

زینت ایدھی کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے گھروں میں نوکر رکھتے ہوئے یہ بھی معلوم نہیں کرتے کہ وہ کس کو اپنے گھر میں آنے، کام کرنے اور رہنے کی اجازت دے رہے ہیں اور ایسے نوکروں میں سے کئی ان ہی گھروں میں چوری اور اغوا سے لے کر بچوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات میں ملوث پائے گئے ہیں اور انھوں نے ایک سماجی کارکن ہونے کی حیثیت سے ایسے کئی کیسز دیکھے ہیں اور اس ہی لئے وہ عوام سے احتیاط کرنے کی اپیل کرتیں ہیں۔

کراچی میں پولیس اور عوام کے بیچ رابطے میں ایک اہم کردار ادا کرنے والا ادارہ سی پی ایل سی اغوا جیسے جرائم میں شہریوں کی خصوصی مدد کرتا ہے۔ اس ادارے کے سربراہ احمد چنوئے نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کراچی میں ایک ڈاکٹر کے گھر سے ان ہی کے نوکر کے ہاتوں انہی کے بچے کے اغوا کی مثا ل دیتے ہوئے کہا کہ شہر میں لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ کام کر رہے ہیں جنہیں لوگوں نے اپنے گھروں میں بغیر یہ جانے رکھا ہوا ہے کہ وہ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہ ایسے نوکر جس گھر میں کام کرتے ہیں وہ وہاں کوئی جرم کر سکتے ہیں یا وہاں پناہ لئے ہوئے شہر کے دوسرے حصوں میں جرائم کی وارداتوں میں ملوث ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دراصل مجرم ہی ہوں بس چھپنے کے لئے گھروں میں نوکر کے بھیس میں کام کرتے ہوں اور درحقیقت شہر میں مختلف جرائم میں ملوث ہوں۔
احمد چنوئے نے کہا کہ کسی نوکر کو رکھنے سے پہلے اپنے علاقے کے تھانے سے فارم حاصل کیا جائے اور اس میں ملازم کی تمام تفصیلات، کس حوالے سے اس ملازم کو رکھا جا رہا ہے، شناختی کارڈ کی کاپی اور تصویر تصدیق کے بعد جمع کروائی جائے تو کسی واردات کی صورت میں مجرموں تک پہنچنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔

کراچی کے شہری شاہد محمد قریشی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کی ان کے محلے کے ایک خالی پلاٹ میں رہنے ولے ایک خاندان سے ایک لڑکا انھوں نے اپنے گھر پر ملازم رکھ لیا جو آٹھ دس سال ان کے گھر کام کرتا رہا اور اس کی بہن اوپر والی منزل پر ان کے بھائی کے گھر ملازمہ تھی اور ان دونوں نے مل کر شاہد کے گھر میں ایک رات چوری کی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کس کمرے کی کس الماری میں کہاں پر کیا رکھا ہے لیکن خوش قسمتی سے وہ بڑا ہاتھ نہ مار سکے کیونکہ اس رات شاہد خلاف معمول اس کمرے میں سو رہے تھے جہاں وہ عام طور پر نہیں سوتے تھے۔

جب اس طرح کی وارداتوں کا ذکر کراچی کے علاقے گلستان جوہر تھانے کے سب انسپیکٹر محمد صدیق عباسی سے کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ لوگ انجان لوگوں کو اپنے گھروں میں مالی ، باورچی یہاں تک کہ چوکیدار رکھ لیتے ہیں جن کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی وارداتوں سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی آپ کسی کو اپنے گھر میں ملازم رکھیں تو یہ ضرور معلوم کر لیں کہ وہ دراصل کہاں کا رہنے والا ہے، آپ کے شہر میں کب سے رہ رہا ہے، کہاں رہ رہا ہے، اسے کسی کے حوالے کے بغیر نہ رکھیں اور اس کا مکمل بایؤڈیٹا اور شناختی کارڈ کی کاپی ضرور حاصل کر لیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نوکر گھر کے ساتھ الماری بھی نہ صاف کر دے۔
XS
SM
MD
LG