رسائی کے لنکس

20 نومبر سے شروع ہونے والے مقابلہٴحسن کے مختلف مراحل اب اختتام کی جانب پہنچ چکے ہیں، جبکہ ملکہ حسن کا تاج کس کے سر پر سجے گا، اِس کا فیصلہ 14 دسمبر کو ’گرینڈ فائنل‘ مقابلے میں کیا جائے گا

عالمی مقابلہٴحسن کا تاج کس ملک کی حسینہ کے سر پر سجے گا؟ اس کا فیصلہ ہونے میں اب صرف ایک ہی ہفتہ باقی رہ گیا ہے۔ اس بار، 'مس ورلڈ 2014ء' مقابلہٴحسن کی خوبصورتی میں مزید چار چاند لگ گئے ہیں، کیونکہ 63 سال پہلے جس شہر نے مس ورلڈ مقابلہٴحسن کی روایت کو جنم دیا تھا، آج ایک بار پھر، یہ مقابلہ سیاحوں کے محبوب شہر لندن میں واپس آگیا ہے۔

مس ورلڈ کا ٹائٹل اسوقت فلپائن کی حسینہ'میگن ینگ 'کے پاس ہے جنھوں نے گذشتہ برس انڈونیشیا میں منعقدہ مس ورلڈ مقابلہ جیت کر عالمی ملکہٴحسن کا اعزاز حاصل کیا تھا، جبکہ پہلی بار مس ورلڈ مقابلہٴحسن سویڈن سے تعلق رکھنے والی حسینہ'ہسکی ہاکنون' نے جیتا تھا۔

برطانیہ کا دارلخلافہ اور کوئین الزیبتھ کا شہر لندن پچھلےدو ہفتوں سے دنیا بھر سےمس ورلڈ مقابلے میں حصہ لینے والی 120 حسیناؤں کی میزبانی کا شرف اٹھا رہا ہے۔اگرچہ 20 نومبر سے شروع ہونے والے مقابلے کے مختلف مراحل اب اختتام کی جانب پہنچ چکے ہیں، لیکن ملکہ حسن کا تاج کس کے سر پر سجے گا، اس کا فیصلہ گرینڈ فائنل مقابلہ کے روز کیا جائے گا، جو 14 دسمبر کو مرکزی لندن کے ایکسل سینٹر میں منعقد کیا جائے گا۔

مس ورلڈ کے منتظمین کا دعوی ہے کہ مقابلہٴحسن کا گرینڈ فائنل 2.2 ارب افراد ٹی وی پر یا انٹرنیٹ کے ذریعے دیکھ سکیں گے۔

کوئل رانا

کوئل رانا

مس ورلڈ کی ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، مس ورلڈ کےفائنل مقابلےسے پہلے مس ورلڈ میں حصہ لینے والی حسیناؤں کا چھ مختلف چیلنجز اور تقریبات میں حصہ لینا ضروری ہے۔ مس ورلڈ مقابلےکا بیچ فیشن، بیوٹی ود پرپز، ملٹی میڈیا، اسپورٹس اینڈ فٹنس، ٹیلنٹ اور ٹاپ ماڈل کے مراحل میں ٹاپ اسکور حاصل کرنے والی حسیناؤں کو جج صاحبان مس ورلڈ کا تاج جیتنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

فائنل مقابلے میں پہنچنے والی حسیناؤں کے حاصل کردہ نمبروں کی گنتی فائنل راونڈ مکمل ہونے کے بعد کی جاتی ہے اور ان نمبروں میں فائنل مقابلے کے نمبروں کو جمع کرنے کے بعد، سب سے زیادہ اسکور حاصل کرنے والی حسینہ کو ملکہٴحسن قرار دیا جاتا ہے۔

مس انگلینڈ کرینہ

مس انگلینڈ کرینہ

مس ورلڈ مقابلے کی عمومی شرائط کے مطابق، مقابلے میں شرکت کے لیے خواہشمند حسیناؤں کے پاس ان کے ملک کا نشنل بیوٹی اعزاز ہونا ضروری ہے۔

رواں برس'پیپل چوائس ایواڈ' کی ٹاپ ٹین حسیناؤں کے ناموں کا اعلان کیا جاچکا ہے جن کا انتخاب مس ورلڈ کے فری ایپ پر دنیا بھر سے لوگوں نے کیا ہےتاہم مقابلہ جیتنے والی حسینہ کے نام کا اعلان مقابلے کے آخری روزاسٹیج پر کیا جا ئیگا۔

مقابلہٴحسن کی فیس بک پر رواں برس کے مختلف مقابلوں میں زیادہ نمبر حاصل کرنے والی ٹاپ امیدواروں کے نام کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق پیپلز چوائس زمرے میں 10 امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں، جن کا تعلق بھارت، انڈونیشیا، نیپال، فلپائن، تھائی لینڈ اور آسٹریلیا سے ہے۔

مس گیانا رافعہ

مس گیانا رافعہ

'بیوٹی ود پرپز' چیلینج میں سب سے زیادہ اسکور حاسل کرنے والی حسیناؤں میں ٹاپ ٹین پوزیشن پر مس انڈیا، مس انڈونیشیا، مس برطانیہ، مس کینیا، مس نیدرلینڈز، مس فلپائن، مس گییانا، مس ساوتھ افریقہ اور مس بولیویا شامل ہیں۔

'ٹاپ ماڈل 'کے زمرے میں 20 ماڈلز کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں 'بیسٹ ڈیزائنر ڈریس' کے لیے مس انڈیا کوئل رانا نے پہلا انعام جیتا ہے۔

ٹاپ ماڈل کی فہرست میں مس آسٹریلیا، مس چائنا، مس انڈیا، مس اسکاٹ لینڈ، مس میکسیکو سمیت کئی دوسری حسینائیں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ، یونیورسٹی چیلنج مقابلے میں کینیا ،انڈیا، وینزویلا کی حسیناوں نے زیادہ نمبر حاصل کئے ہیں۔

مس لبنان سیلی

مس لبنان سیلی

ہر سال کی طرح، اس مقابلے میں شرکت کرنے والی لڑکیاں میڈیسن سے لے کر بزنس اور جرنلزم جیسے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، کیونکہ مقابلے کے قواعد کے مطابق، امیدواروں کا انتخاب صرف ظاہری نقش پر نہیں کیا جاتا، بلکہ ان کے کردار کی خوبی پر بھی نظر رکھی جاتی ہے۔ جبکہ، اس مقابلے کو جیتنے کے لیےحاضر جواب ہونا اور ان کے پاس معلومات عامہ کا ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ جج صاحبان کی جانب سے امیدواروں کو حسن کے علاوہ ذہانت اور انسانیت کی اعلی خوبیوں کی بنیاد پر اعلی نمبروں سے نوازا جاتا ہے۔

مس کینیڈا اینورا

مس کینیڈا اینورا

مس ورلڈ مقابلہ پہلی بار انیس سو اکیاون میں برطانیہ کے ایک تہوار کے طور پر منعقد کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں خاص طور پر60اور 70 کے عشرے میں خواتین کو گلیمرس کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اس وقت اس مقابلے میں کل چھبیس حسیناوں نے حصہ لیا تھا اور جیتنے والی حسینہ کو انعام کے طور پر ایک ہزار پونڈ کی رقم پیش کی گئی تھی۔

برطانیہ اب تک مس ورلڈ کے چار مقابلے جیت چکا ہے۔ اسی طرح، بھارتی حسیناؤں نے مس ورلڈ کا تاج پانچ بار اپنے سر پر سجایا ہے، جن میں ایشوریہ رائے اور پریانکا چوپڑہ نے اداکاری کے میدان میں بھی خوب شہرت کمائی ہے؛ جبکہ سب سے زیادہ بار مس ورلڈ کا خطاب وینزویلا کی حسیناؤں نے حاسل کیا ہے، جنھوں نے مجموعی طور پر یہ اعزاز چھ بار حاصل کیا۔

مس امریکہ الزیبیتھ

مس امریکہ الزیبیتھ

تاہم، مس ورلڈ کےمنتظمین اور شرکا کی وجہ سے آج یہ مقابلہ جدید تقاضوں کے مطابق ڈھل چکا ہے جہاں امیدواروں کو کمیونٹیز خدمات، فٹنس اور تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر اعلی اسکور سے نوازا جاتا ہے۔ لیکن، پھر بھی حسن کا معیار آج بھی ظاہری خوبصورتی ہی ہے۔ آج ان حسیناؤں کو خیر سگالی کی سفیر یا مندوب کہا جاتا ہے، جو دنیا گھومنے اور لوگوں سے ملنےکا شوق رکھتی ہیں اور مس ورلڈ انھیں خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

رواں برس عالمی حسینہ کی دوڑ میں برطانیہ سے مس انگلینڈ کرینہ ٹیریل، مس نودرن آئر لینڈ ربیکا ٹرلی، مس اسکاٹ لینڈ ایلی میک کیٹنگ۔ مس ویلز ایلس فورڈ اور مس آئر لینڈ جیسیکا ہیز شامل ہوئی ہیں۔

مس مصر امینہ

مس مصر امینہ

ان کے علاوہ مس ورلڈ مقابلے میں ہر سال کی طرح اس سال بھی بھارتٰی حسینہ نے حصہ لیا ہے۔ دیگر ممالک میں امریکہ، کینیڈا، روس، آسٹریلیا، ترکی، لبنان، البانیہ، مصر، انڈونیشیا، نیپال، چاڈ، گیانا، یوراگوے، تیونس، یوکرائن، جاپان، اٹلی اور بہت سے دوسرے ممالک سے حسینائیں شامل ہیں۔

مس انڈیا: اکیس سالہ مس کوئل رانا بھارت کے شہر جے پور میں پیدا ہوئیں اور دلی میں پلی بڑھی ہیں۔ وہ موکشاہ فاوٴنڈیشن چلاتی ہیں۔ انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے انٹرنشنل فنانس میں ڈگری حاصل کی ہے۔ اسپورٹس، موسیقی اور کلاسیکل رقص پسند کرتی ہیں۔

مس انگلینڈ: چوبیس سالہ مس انگلینڈ کرینہ ٹیریل یونیورسٹی آف کیمبرج میں میڈیسن کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ کترینہ سوئٹزرلینڈ میں پیدا ہوئیں وہ برطانیہ میں اپنے خاندان کے ساتھ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اقوام متحدہ میں اسٹوڈنٹ آف دا لیگل نیشن کی اسپیکر ہیں.

مس آسٹریلیا کورٹنی

مس آسٹریلیا کورٹنی

مس آسٹریلیا: چوبیس سالہ کورٹنی برسبن میں پیدا ہوئیں اور ماس کمیونیکیشن میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ فری لانسر رائٹر اور فیشن اسٹائلسٹ کے طور پر پارٹ ٹائم جاب کرتی ہیں۔

مس کینیڈا: اکیس سالہ مس انورا یونیورسٹی میں نفسیات کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، اور مستقبل میں اپنے لیے ایک کلینک کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ انھیں جانوروں سے بھی لگاؤ ہے پہاڑوں پر چڑھنے کا شوق رکھتی ہیں اور پیانو اور گٹار بجانا پسند ہے۔

مس انڈونیشیا: تیئیس سالہ ماریا جاوا میں پیدا ہوئیں اور یونیورسٹی میں ماس کمیونیکیشن میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ وہ ٹی وی کی اسکرین سے اپنا کیریر شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

مس لبنان: پچیس سالہ سیلی سول انجنئیرنگ کی ڈگری رکھتی ہیں، سوئمنگ کرنا اور کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں۔

مس ترکی: اکیس سالہ اینی ایک اداکارہ اور ماڈل ہیں جو مستقبل میں نفسیات کی تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

مس امریکہ: بائیس سالہ الزیبیتھ جنوبی امریکہ کے ایک چھوٹے سے ٹاون اینا بولیز میں پیدا ہوئیں وہ پولیٹیکل سائنس اور جرنلزم میں ڈگری حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جبکہ میوزیکل تھیٹر دیکھنا پسند کرتی ہیں۔

مس وینزویلا: تیئیس سالہ دبوار ایک فیشن ڈیزائنر اور ماڈل ہیں اور مستقبل میں اپنی خود کی فیشن لائن اور میک اپ برانڈ قائم کرنا چاہتی ہیں۔

مس گیانا: بائیس سالہ رافعہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے تیسرے سال میں زیر تعلیم ہیں کھانا پکانا، کتب بینی اور سیاحت کا شوق رکھتی ہیں۔

مس بیلجیم انیسہ

مس بیلجیم انیسہ

مس بیلجئیم: بائیس سالہ انیسہ بزنس اور انجینئرنگ کی تعلیم حاسل کر رہی ہیں اور ناول پڑھنے کی بے ھد شوقین ہیں۔

مس مصر: انیس سالہ امینہ دنیا بھر کی سیاحت کا شوق رکھتی ہیں اور موسم گرما میں خالی اوقات میں لبنان میں بچوں کو پڑھاتی ہیں، رقص کرنے کا شوق رکھتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG