رسائی کے لنکس

متنازع علاقے میں امریکی جہاز کا سفر، چین کا احتجاج


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پینٹاگان کے ترجمان ڈیوس کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی جہاز "بحیرہ جنوبی چین میں جہاز رانی کی آزادی" کے معمول کے اقدام کے حق کا استعمال کر رہا تھا۔

چین نے بحیرہ جنوبی چین کے متنازع علاقے سے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کے سفر کو ایک "سنگین اقدام" کہہ کر مذمت کی ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کی طرح چین بھی اس علاقے پر ملکیت کا دعویدار ہے۔

تاہم امریکہ کا ماننا ہے کہ اس کا یہ اقدام جہاز رانی کے حق کو استعمال کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔

پینٹاگان کے ایک ترجمان جیف ڈیوس نے کہا کہ امریکی جنگی جہاز 'یو ایس ایس کیورٹس' کے یہاں سے گزرنے کا مقصد ان ضروری بحری راستوں سے گزرنے کے بین الاقوامی حق کو استعمال کرنا تھا۔

امریکی جہاز پارسل نامی جزیروں میں سے ایک جزیرے کے 12 میل کے فاصلے کے اندر سے گزرا۔ ان جزائر پر تائیوان، ویت نام اور چین ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

بیجنگ میں چینی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے اپنی بحری مشق کی ذریعے جنوبی بحیرہ چین کے امن و استحکام کو تباہ کیا ہےجو اس علاقے میں گزشتہ سال اکتوبر کے بعد کسی بھی امریکی جنگی جہاز کے گزرنے کا دوسرا واقعہ ہے۔

چینی وزارت دفاع کے ترجمان ینگ یوجن نے اس طرح کے بحری سفر کی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین کی مسلح افواج کی جانب سے" امریکہ کی طرف سے اشتعال انگیزی کے کسی بھی اقدام کے خلاف تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے"۔

دوسری طرف پینٹاگان کے ترجمان ڈیوس کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی جہاز "بحیرہ جنوبی چین میں جہاز رانی کی آزادی" کے معمول کے اقدام کے حق کا استعال کر رہا تھا۔

ڈیوس نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد "اس (علاقے) کے تین دعوے داروں چین، تائیوان اور ویت کی طرف سے جہاز رانی کے حقوق اور آزادی کو محدود کرنے کی کوششوں کو چیلنج کرنا تھا"۔

پینٹاگان کے ترجمان نے کہا کہ امریکی جہاز کے یہاں سے گزرنے سے قبل نا تو چین اور نا ہی کسی دوسرے علاقائی حکام کو اس کے متعلق کوئی پیشگی اطلاع دی گئی تھی "جو کہ ہمارا ایک معمول کا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق عمل ہے"۔

XS
SM
MD
LG