رسائی کے لنکس

بیروت،خانہ جنگی سے تعمیر نو تک کی شاندار مثال

  • جیمز بروک

بیروت میں تعمیر ہونے والی فلک بوس عمارتیں

بیروت میں تعمیر ہونے والی فلک بوس عمارتیں

بیروت نے زلزلے، جنگیں اور بیرونی حملے سبھی دیکھے ہیں۔ ہر بار، مشرقِ وسطیٰ کا ہیرا، نئی آن بان کے ساتھ پھر چمکنے لگتا ہے۔

بیس برس پہلے جب بیروت میں خانہ جنگی ختم ہوئی تو شہر بمباری سے تباہ ہو چکا تھا اور عمارتوں پر ہر طرف گولیوں کی نشان نظر آتے تھے ۔ آج بیروت کی رونقیں واپس لوٹ آئی ہیں۔
صرف دو عشرے پہلے بیروت خانہ جنگی سے کھنڈر بن چکا تھا ۔ آج شام میں ہر طرف تباہی کا راج ہے ۔ لیکن بیروت کی نشاۃ ثانیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر وں کی آب و تاب کس طرح واپس آ سکتی ہے ۔

آج، بیروت کے پرانے ہالیڈے اِن پر گولیوں کے نشانات سے اس لڑائی کی یاد تازہ ہوتی ہے جب گرین لائن پر شہر مسلمانوں کے مغربی علاقے اور عیسائیوں کے مشرقی علاقے میں بٹ گیا تھا۔

ایک نسل بعد، سڑکوں پر کیفے لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ بیروت میں اب ہر طرف نفیس دوکانیں، رہائشی فلیٹوں اور آفسوں کے ٹاور نظر آتے ہیں اور نئی تعمیرات زور شور سے جاری ہیں۔ بیروت بڑی حد تک نئے سرے سے تعمیر ہو رہاہے۔

اولیور مارٹن رابنسن ایک برطانوی اقتصادی تجزیہ کار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بیروت میں ہر طرف، ہر وقت تعمیر کا کام ہو رہا ہے ۔’’لبنان میں آج کل زور شور سے تعمیراتی کام ہو رہا ہے اور یہ سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ عام طور سے لگژری عمارتیں بن رہی ہیں، اور شہر کے وسط میں لگژری آفس بھی تعمیر ہو رہے ہیں۔‘‘

رونی چاتا سیاحوں کو بیروت شہر کے ٹور’والک بیروت‘ پر لے جاتے ہیں ۔ حال ہی میں اتوار کے روز وہ اپنے گروپ کے ساتھ ایک سنہری اور سبز رنگ کی اپارٹمنٹ بلڈنگ کے سامنے رکے تھے۔ یہ سو سالہ قدیم عمارت عثمانیہ اور فرانسیسی طرزِ تعمیر کا امتزاج ہے۔ لیکن بیروت میں ایسی عمارتیں بہت کم ہیں۔

’’قدیم طرز کی عمارتوں کو بحال کرنے کا خیال دیر سے آیا ہے ۔ لیکن اس سلسلے میں کوئی زیادہ کام نہیں ہوا ہے ۔ میرے خیال میں نئی تعمیرات کو ترجیح دی گئی ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بیروت کی تاریخ کو یا کم از کم طرزِ تعمیر کی تاریخ کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘

شاندار شاپنگ مال اور ملین ڈالر مالیت کے فلیٹ خلیج کی ریاستوں کے لوگوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ خلیجِ فارس سے سیاح یہاں بیروت کے طرزِ زندگی سے لطف اندو ز ہونے کے لیے آتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے پُر تعیش اور وسعت نظر ہے۔
لیکن جب شام میں جنگ چھڑ گئی، تو لبنان میں اس کے نتیجے میں تشدد کی رپورٹوں کی وجہ سے کچھ ٹورسٹ خوفزدہ ہو گئے۔

مارٹن رابنسن کہتے ہیں’’شہر کے ڈاؤن ٹاؤن میں بہت سی عمارتیں خالی پڑی ہیں ۔ یہاں آپ کو بہت زیادہ لوگ نظر نہیں آئیں گے ۔ یہاں بہت سی عمارتیں گلف کے لوگوں کی ملکیت ہیں۔ یہ لوگ آج کل یہاں آنے سے گھبراتے ہیں ۔ اسی لیے بہت سی جگہیں خالی پڑی ہیں۔‘‘

ہمسایہ ملک میں جنگ کے باوجود، بیروت میں نئی عمارتیں بن رہی ہیں۔ ٹور گائیڈ چاتا کہتے ہیں کہ بیروت کی مقبولیت کی وجہ اس کا محلِ وقوع اور لبنانیوں کا کاروباری جذبہ ہے ۔’’بیروت کا محلِ وقوع اس کا حسن ہے اور یہی اس کے لیے دردِ سربھی ہے ۔ ٹھیک ہے، یہ بحرِ روم پر واقع ہے۔ اس کا منظر بہت حسین ہے، برف سے ڈھکا ہوا ماؤنٹ لبنان صاف نظر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی، یہی وہ جگہ ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کی بیشتر جنگیں لڑی جاتی ہیں۔‘‘

چاتا کا ٹور شہر کے وسط میں دو ہزار سال قدیم رومن حمام کے کھنڈرات کے نزدیک ختم ہو جاتا ہے ۔

بیروت نے زلزلے، جنگیں اور بیرونی حملے سبھی دیکھے ہیں۔ ہر بار، مشرقِ وسطیٰ کا ہیرا، نئی آن بان کے ساتھ پھر چمکنے لگتا ہے۔
XS
SM
MD
LG