رسائی کے لنکس

ادب کا نوبیل انعام بیلاروس کی ادیبہ کے نام


فائل

فائل

سوئیڈش اکیڈمی نے اپنے بیان میں سویتلانا کی تحریروں کو "نغمے کی دھن کی طرح مرتب" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہم واقعات سے متاثر عام افراد کی کہانیوں کو جمع کرکے مصنفہ نے ایک پورے دور کو تفہیم آسان کردی ہے۔

بیلا روس سے تعلق رکھنے والی ادیبہ اور صحافی سویتلانا ایلگزیوچ 2015ء کے ادب کے نوبیل انعام کی حق دار قرار پائی ہیں۔

ادب کےنوبیل انعام کا اعلان جمعرات کو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں 'سوئیڈش اکیڈمی' نے کیا جو نوبیل ایوارڈز کا منتظم ادارہ ہے۔

محترمہ ایلگزیوچ کی تصانیف میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران روسی خواتین کی داستانوں، 1986ء کے چرنوبیل حادثے کے متاثرین کی کہانیوں اور افغانستان پر روسی حملے سے متعلق عام افراد کے تاثرات پر مشتمل کتابیں شامل ہیں۔

اپنی ان کتابوں کے لیے سویتلانا الیگزیوچ نے تاریخ کے ان اہم واقعات سے براہِ راست متاثر ہونے والے سیکڑوں افراد کے انٹرویو کیے جنہیں انہیں بعد ازاں کتابی صورت میں شائع کیا۔

سوئیڈش اکیڈمی نے اپنے بیان میں سویتلانا کی تحریروں کو "نغمے کی دھن کی طرح مرتب" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اہم واقعات سے متاثر عام افراد کی کہانیوں کو جمع کرکے مصنفہ نے ایک پورے دور کو تفہیم آسان کردی ہے۔

بیان کے مطابق سویتلانا نے ادب میں ایک نئی صنف متعارف کرائی ہے اور صحافت میں مروج طرزِ تحریر کو ادب میں استعمال کرکے اسے نئی بلندیوں اور معانی سے ہم کنار کیا ہے۔

سنہ 1948 میں یوکرین میں پیدا ہونے والی سویتلانا ایلگزیوچ نے اپنی نصابی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پہلے استانی اور پھر صحافی کی حیثیت سے پیشہ وارانہ خدمات انجام دیں۔

انہیں بیلاروس کی حکومت پر کڑی تنقید کرنے کی پاداش میں کئی سال سوئیڈن، جرمنی اور فرانس میں جلاوطنی بھی کاٹنی پڑی۔

ادب کا نوبیل انعام ملنے پر سویتلانا الیگزیوچ نے سوئیڈش اکیڈمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انعام میں ملنے والی رقم کو دو نئے تحریری منصوبوں پر خرچ کریں گی۔

انعام کے اعلان کے بعد سوئیڈش ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سویتلانا نے بتایا کہ وہ اپنی ایک کتاب پر پانچ سے 10 سال تک کام کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوبیل انعام میں ملنے والی رقم انہیں ان کی معاشی ضروریات سے بے نیاز کردے گی جس کے باعث وہ یکسو ہو کر ان دو نئی کتابوں پر کام کرسکیں گی جن کے موضوعات وہ طے کرچکی ہیں۔

رواں سال کے نوبیل ایوارڈز کے فاتحین کا ناموں کا اعلان پیر کو شروع ہوا تھا اور ادب اس فہرست میں چوتھا شعبہ ہے جس کا اعلان ہوچکا ہے۔

اس سے قبل سوئیڈش اکیڈمی طب، طبعیات اور کیمیا کے شعبوں میں ایوارڈز کا اعلان کرچکی ہے جب کہ معاشیات اور امن کے نوبیل انعامات کا اعلان باقی ہے۔

معروف سائنس دان الفریڈ نوبیل سے منسوب ان ایوارڈ کے فاتحین کو سند اور میڈل کے علاوہ 80 لاکھ سوئیڈش کراؤن (لگ بھگ نو لاکھ 72 ہزار ڈالر) کی رقم بھی ملتی ہے۔

XS
SM
MD
LG