رسائی کے لنکس

پیرس کا مشتبہ حملہ آور فرانس کے حوالے کیا جائے گا: بیلجیئم


مشتبہ دہشت گرد صالح عبدالسلام

مشتبہ دہشت گرد صالح عبدالسلام

عبدالسلام پر الزام ہے کہ اس نے پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد کی جن میں متعدد جگہوں پر 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بیلجیئم میں عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نومبر میں پیرس کے دہشت گرد حملوں میں ملوث مشتبہ شخص کو فرانس کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

فرانس کے وزیر انصاف یاں یاک اُروَوس نے جمعرات کو کہا کہ وہ صالح عبدالسلام کو 10 روز میں پیرس بھیجنے کی توقع کرتے ہیں۔

عبدالسلام کے وکیل سیڈرک موئس نے کہا کہ ان کے موکل نے فرانس کے حوالے کیے جانے پر اتفاق کیا ہے۔

’’عبدالسلام یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ فرانس کے حکام سے تعاون کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس کے الفاظ ہیں۔‘‘

تاہم اس کے ایک اور وکیل نے 18 مارچ کو اس کی گرفتاری کے بعد کہا تھا کہ عبدالسلام فرانس کے حوالے کیے جانے کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس نے اپنا ارادہ کیوں تبدیل کیا۔

عبدالسلام پر الزام ہے کہ اس نے پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں مدد کی جن میں متعدد مقامات پر 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مبینہ طور پر اس نے خود کش بمباروں کے لیے کمرے کرائے پر حاصل کیے اور دھماکہ خیز مواد خریدا۔

ایک فرانسیسی استغاثہ عہدیدار نے کہا کہ عبدالسلام فٹ بال سٹیڈیم کے باہر خود کو دھماکے سے اڑانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔

چار ماہ مفرور رہنے کے بعد ایک گھر پر چھاپے کے دوران پولیس کو بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں اس کی موجودگی کا سراغ ملا، جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ عبدالسلام کے خالد اور ابراہیم البکروئی کے ساتھ روابط تھے جنہوں نے گزشتہ ہفتے برسلز میں خود کش حملے کیے جن میں 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دریں اثنا استغاثہ حکام نے بدھ کو 34 سالہ فرانسیسی شہری ریڈا کریکٹ کے خلاف دہشت گردی کا ابتدائی الزام عائد کیا ہے۔ الزام میں کہا گیا ہے کہ اس کے اپارٹمنٹ سے ملنے والا دھماکہ خیز مواد ظاہر کرتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایک ’’انتہائی پرتشدد‘‘ کارروائی کی تیاری کی جارہی تھی۔

شبہ ہے کہ ریڈا کریکٹ نے 2014 کے اواخر یا 2015 کے اوائل میں شام کا سفر کیا اور بیلجیئم میں حکام پہلے ہی جولائی میں دہشت گردی کے الزام میں اسے غائبانہ طور پر مجرم قرار دے چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG