رسائی کے لنکس

بین کارسن نے غلاموں کو بھی تارکینِ وطن قرار دے دیا


بین کارسن کا کہنا تھا کہ غلاموں کو لانے والے جہازوں کے ذریعے بھی تارکینِ وطن امریکہ آئے جنہیں یہاں بہت کم اجرت پر بہت زیادہ کام کرنا پڑتا تھا۔

امریکہ کے نئے وزیر برائے ہاؤسنگ اور شہری ترقیات بین کارسن کا خطاب سننے والے سامعین کو اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے چار سو سال قبل امریکہ لائے جانے والے غلاموں کو تارکینِ وطن قرار دے ڈالا۔

پیر کو اپنا عہدہ سنبھالنے کے پہلے دن محکمے کے صدر دفتر میں ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے بین کارسن نے امریکہ کو یہاں آنے والوں کے لیے خوابوں اور مواقع کی سرزمین قرار دیا۔

اپنے خطاب میں بین کارسن کا کہنا تھا کہ غلاموں کو لانے والے جہازوں کے ذریعے بھی تارکینِ وطن امریکہ آئے جنہیں یہاں بہت کم اجرت پر بہت زیادہ کام کرنا پڑتا تھا۔

لیکن، ان کے بقول، ان تارکینِ وطن کا بھی خواب تھا کہ ایک روز ان کے بیٹے، بیٹیاں، پوتے، پوتیاں، اور ان کے بچے اس سرزمین پر خوشی اور خوش حالی سے زندگی گزاریں گے۔

بین کارسن کے خطاب کے بعد ان کے اس بیان کی وضاحت کرتے ہوئے محکمے کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ سامعین میں سے کسی کو بھی یہ شائبہ تک نہیں ہوا کہ بین کارسن اپنی مرضی سے امریکہ آنے والے افراد اور زبردستی غلام بنا کر لائے جانے والے لوگوں کو مساوی قرار دے رہے تھے۔

بین کارسن ایک سابق نیورو سرجن ہیں جو گزشتہ سال صدارتی انتخاب کے لیے ری پبلکن جماعت کے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔

بعد ازاں وہ ڈونالڈ ٹرمپ کے حق میں صدارتی دوڑ سے دستبردار ہوگئے تھے اور پوری انتخابی مہم کے دوران اور اس کے بعد بھی ان کے قریبی مشیروں میں شامل رہے۔

بین کارسن ڈیٹرائٹ کے ایک غریب گھرانے میں پلے بڑھے اور وہ اکثر عوامی اجتماعات میں اپنی والدہ کا تذکرہ کرتے ہیں کہ انہوں کس طرح بیک وقت دو نوکریاں کرکے ان کی پرورش کی لیکن حکومت کی امداد قبول نہیں کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG