رسائی کے لنکس

پاکستان واپسی سے قبل، اکتوبر 2007ء میں وائس آف امریکہ کی شہناز عزیز کے ساتھ ایک انٹرویو میں بے نظیر بھٹو نے ملک کی امن و امان کی صورتِ حال کو ’غیر یقینی‘ قرار دیا تھا

پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی راہنما، بے نظیر بھٹو نے کہا تھا کہ اِس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ اُنھیں گرفتار کیا جائے گا، ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن کے شاندار استقبال سے ثابت ہوگا کہ پاکستان کے عوام اپنے جمہوری حقوق واپس لینا چاہتے ہیں۔

تفصیلی انٹرویو کے لیے آڈیو رپورٹ سنئیے:



انٹرویو کا متن:

شہناز عزیز: ایک ایسے وقت میں جب یہ خبریں ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ صدر مشرف کی مفاہمت ہوئی ہے اور کوئی حکومت بن سکتی ہے، دونوں کے اتحاد سے، تو اس مفاہمت پر اس ترمیم کا کیا اثر پڑے گا کہ وہ وردی میں الیکشن لڑ سکتے ہیں اور اب دو سال کی مہلت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

بےنظیر: پاکستان پیپلز پارٹی کے مذاکرات جنرل مشرف کے ساتھ جمہوریت کی بحالی کے لیے تھے۔ جنرل صاحب کے پاس دو آپشنز ہیں: ایک آپشن یہ کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر ایک صاف شفاف انتخابات کرواسکیں اور دوسرا یہ آپشن ہے کہ وہ آئین کے ساتھ کھیلیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ ان کے رفقا چاہتے ہیں کہ جنرل مشرف پیپلز پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ نہ کریں۔ اور اس لیے انہوں نے الیکشن کمیشن کے طفیل ترامیم کا اعلان کیا ہے کیونکہ ان کے تحت آئین کو غیر قانونی طریقے سے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
میں سمجھتی ہوں کہ یہ معاملہ عدالت کے سامنے جائے گا اور عدالت کو فیصلہ دینا پڑے گا کہ کیا آئین میں جو ترمیم کی گئی ہے وہ قانونی ہے یا غیر قانونی ہے۔ آپ جانتی ہیں کہ آئین میں تو صرف پارلیمنٹ ترمیم کرسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن تو نہیں کرسکتا۔ یہ حیرت انگیز بات ہے کہ الیکشن کمیشن نے ایسا کیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ کوئی غلط مشورہ جنرل مشرف کو دے رہاہے۔

شہناز عزیز: تو بے نظیر صاحبہ کیا آپ سے اس سلسلے میں ان کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔
انہوں نے آپ سے کوئی contact نہیں کیا، اس ترمیم سے پہلے؟

بےنظیر: جی ہمارے ساتھ اس ترمیم کے کرنے سے پہلے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ جب رابطہ کیا گیاتھا تو وہ اس بات پر تھا کہ جنرل صاحب کب یونیفارم نکالیں گے۔ اور کب سویلین بنیں گے۔ اور پھر کون سے طریقے سے presidential اورپارلیمنٹری اور جنرل الیکشن کیے جائیں۔ تو پھر ہم ایک کانسٹی ٹیوشنل پیکیج پر بات چیت کررہے ہیں تاکہ ہمارے ملک کے اندر جمہوریت بحال ہو اور عوام کے مسئلے حل ہوں۔ اور عوام کے مسئلے جب حل ہوں گے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مایوسی دور ہوگی جس کا فائدہ اس وقت لے رہے ہیں۔ تو ہمارے لیے یہ ایک سرپرائز تھا جب یہ راستہ اختیار کیا گیا۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ کچھ لوگ جنرل صاحب کو کہہ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ سمجھوتہ نہ کریں۔ تو دو ہی راستے ہیں ۔ ایک ہے صاف شفاف سیاسی راستہ ۔۔۔پولیٹیکل اکاموڈیشن اور کمپرومائز کا راستہ۔۔۔۔ اور دوسرا راستہ ہے کہ آئین کے ساتھ ذرا کھیلا جائے، اقدامات لیے جائیں۔ عدالت میں پھنس جائیں ، پھر وکیل باہر نکالیں، پولیٹیکل پارٹیز شور مچائیں تو مجھے افسوس ہے کہ یہ دوسرا راستہ اختیار کیا گیا۔
شہناز عزیز: اچھا آپ نے اب سے کچھ دیر پہلے ایک انٹرویو میں کہا کہ آپ کو خدشہ ہے کہ وطن واپسی پر آپ کو گرفتار کیا جاسکتا ہے، یا کراچی میں وہی حالات پیش آسکتے ہیں جو بارہ مئی کو چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر پیش آئے تھے۔تو تھوڑی سی آپ اس کی وضاحت کریں گی؟

بے نظیر: جی پاکستان کے اندر ایک غیر یقینی صورتحال ہے اور کافی ہمارے ملک کے اندر جو قانون کی بنیاد ہوتی ہے ، ہر معاشرے کے اندر، اس کوکمزور کیا گیا ہے۔ مگر سب سے پہلے میں کہنا چاہتی ہوں کہ میں واپس کراچی جارہی ہوں جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا شہر ہے اور ان کی آخری آرام گاہ کراچی کے اندر ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام ، آزاد کشمیر ، قبائلی علاقے اور نادرن ایریاز کے لوگ آکر میرا بہت شاندار استقبال کریں گے۔ اور اس استقبال سے ثابت کریں گے کہ پاکستان کے عوام اپنے جمہوری حقوق کو واپس لینا چاہتے ہیں۔ مگر دوسری طرف اس بات کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ حکومت گرفتاری کی کوشش کرے گی یا پھر وہ اپنے کولیشن پارٹنرز یا اور عناصر کے تھرو، لاء اینڈ آرڈرکی سچویشن پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ حکومت میں مختلف قسم کے ایلیمنٹس ہیں اور ظاہر ہے ان میں کئی ہوں گے جو اس بات پر خوش نہیں ہوں گے کہ پیپلز پارٹی کا اچھا ریسیپشن ہورہاہے اور پیپلز پارٹی کو الیکشن میں ایک بہت بڑا boost ملے گا۔

شہناز عزیز: آپ کی آمد کی خبر کے بعد جس پارٹی نے ، جس کسی سے بھی ہم نے بات کی ہے، انہوں نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے ، وہ ایم کیوایم ہے۔ اور کراچی میں ظاہر ہے کہ ایم کیوایم ایک نمایاں جماعت ہے تو آپ کا ایم کیوایم کےساتھ کوئی رابطہ ہے ، اپنی واپسی کے سلسلے میں؟
بے نظیر: جی پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کا کوئی براہ راست رابطہ فی الحال نہیں ہواہے لیکن آپ جانتی ہیں کہ ایم کیوایم بھی اسمبلی کے رکن ہیں اور پیپلز پارٹی بھی ہے اور ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی نے ماضی میں اکھٹے کام کیا ہے 1988 میں، پھر دور ہوگئے تھے ۔ تو ایم کیوایم نے پھر یہ فیصلہ کیا ہےخیرمقدم کرنے کا ۔تو یہ بہت مثبت رسپانس تھا اور ہم نے اس کو نوٹ کیا ہے اور سمجھتے ہیں کہ یہ آئندہ مستقبل میں ایک اچھا passage یاراستہ دکھا رہاہے۔

شہناز عزیز: آپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرصدر مشرف وردی میں رہتے ہوئے صدارتی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو پیپلز پارٹی عدالت سے رجوع کرے گی۔

بے نظیر: جی ہم سمجھتے ہیں کہ جنرل مشرف صاحب یونیفارم میں الیکشن نہیں لڑسکتے ہیں اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ آئین کے تحت جنرل مشرف الیکشن نہیں لڑسکتے ہیں۔ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ الیکشن کمشن آف پاکستان نے آج ایک amendment پاس کی ہے ۔مگر جو amendment الیکشن کمیشن نے کی ہے وہ خود متنازعہ ہے ۔ تواس اقدام سے ہم سمجھتے ہیں کہ قانونی بحران میں مزید مبتلا ہوجائے گا اور ملک کے اندر مزید الجھنیں ہوں گی کیونکہ سیاسی معاملے، سیاسی طریقے سے حل نہیں ہورہے ہیں۔ اور جس طریقے سے الیکشن کمیشن کو کہا جارہاہے کہ آپ amendments بنائیں جو غیر قانونی ہیں ، یہ ضرور چیلنج ہوں گے۔ تو اس سے ایک نئی محاذ آرائی شروع ہوجائے گی۔ ایک نیا confrontation شروع ہوجائے گا اور ہم تو ملک کے اندر چاہتے ہیں کہ خوش اسلوبی کے ساتھ جمہوریت بحال ہو۔ ہم نے ڈائیلاگ جنرل مشرف صاحب کے ساتھ اس لیے کیے ہیں تاکہ پاکستان کے اندر پرامن طریقے سے جمہوریت بحال ہو، منصفانہ انتخابات منعقد ہوں اور عوام کو ان کے حقوق ملیں۔ تو ہم اس اعلان سے خوش نہیں ہیں، مگر میں آپ کو بتارہی ہوں کہ ہمارے قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ الیکشن کمشن کا جو اقدام ہے وہ جنرل مشرف کو تحفظ نہیں دے سکتا۔

شہناز عزیز: اچھا آج کا جو اے پی ڈی ایم کا فیصلہ ہے کہ اگر جنرل مشرف نے اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا تو ان کے تمام عہدے دار استعفی دے دیں گے اور اس طرح بلوچستان اور صوبہ سرحد کی اسمبلیاں ٹوٹ جائیں گی، تو پیپلز پارٹی کی اس بارے میں کیا پوزیشن ہے؟
بے نظیر: ضرور یہ جو ا علان کیا گیا ہے eligibility کے سلسلے میں، وہ ایک نشان ہے کہ حکومت presidential الیکشن کی طرف جارہی ہے۔ مگر یہ بات قبل از وقت ہے کہ ہم کہیں کہ presidential الیکشن ، پارلیمنٹری الیکشن سے پہلے ہوں گے۔ تو میں سمجھتی ہوں کہ اے پی ڈی ایم نے جوکہاہے ، ان کی بات اس وقت سامنے آئے گی جب presidential الیکشن ہوں ۔ مگر ہمیں یہ نہیں معلوم آج ،کہ وہ الیکشن ان اسمبلیز سے ہوں گے یا آئندہ اسمبلیز سے ہوں گے۔ تو پیپلز پارٹی نے کہاہے کہ ہم انتظار کریں گے اور ہم دیکھیں گے کہ کیا سپریم کورٹ اجازت دیتی ہے جنرل مشرف کو کہ وہ منتخب ہوں کہ نہیں۔

شہناز عزیز: تو بے نظیر صاحبہ آخری سوال آپ سے یہ کہ آپ نے کہاکہ چار ستمبر کو مذاکرات کے آخری دور میں حکومت نے جو وعدہ کیے تھے ، ان پر عمل نہیں کیا گیا۔ تو آپ تھوڑی سی وضاحت کریں گی کہ کون سے وعدے تھے وہ؟

بے نظیر: جی جب ہم چار ستمبر کو ملے تھے تو ہم نے کئی scenarios ڈسکس کیے تھے۔ ایک constitutional comprehensive پیکیج تھا۔ ایک اس سے چھوٹا پیکیج تھا۔ اور تیسرا بھی آپشن تھا، کہ چلیں اتفاق نہیں ہورہا تو دونوں فریق agree کرتے ہیں کہ وہ اپنے الگ الگ راستے پر جائیں گے۔ اور حکومت نے کہاتھا کہ دو، دن بعد وہ آکر ہمیں بتائیں گے کہ کون سے آپشن پر ان کی لیڈر شپ تیار ہے۔ مگر اس کے بعد وہ واپس نہیں آئے تو میں نہیں کہہ سکتی اس وقت کہ وہ کونسا آپشن ایکسرسائز کرناچاہتے ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ اگر وہ presidentialالیکشن کی تیاری کررہے ہیں اور constitutional پیکیج پر agree نہیں ہورہے تو اس کا مطلب ہے کہ فرسٹ آپشن آؤٹ ہے۔ مگر ہمیں دیکھنا ہے کہ جو راستہ انہوں نے اختیار کیا ہے ، کیا وہ کامیاب ثابت ہوتا ہےکہ نہیں۔
شہناز عزیز: بہت بہت شکریہ بے نظیر صاحبہ۔
XS
SM
MD
LG