رسائی کے لنکس

پاکستان میں پونے دو ارب ڈالر سے زیادہ کی امریکی درآمدات

  • خلیل بگھیو

جمعرات کو جاری کردہ حقائق نامے کے مطابق، سنہ 2005 جب سے دونوں ملکوں کے مابین سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کا سمجھوتا عمل میں آیا ہے، اب تک مختلف سائنسی شعبہ جات میں 96 تحقیقی منصوبوں کے لیے درکار رقوم فراہم کی گئی ہیں

امریکی سرکاری ذرائع کے مطابق، سال 2015 کے دوران، امریکہ نے پاکستان کو 1.8 ارب ڈالر کی اشیاٴ برآمد کیں، جس کے باعث، 9200 امریکی روزگار کے مواقع پیدا ہوئے یا پھر اُنھیں فروغ ملا۔

اِس کی مثال دیتے ہوئے، امریکی محکمہٴ تجارت نے بتایا ہے کہ 2016ء کے دوران، ’جنرل الیکٹرک‘ نے پاکستان ریلویز کو 55 انجن کی فراہمی کا کانٹریکٹ حاصل کیا، یہ تمام انجن پنسلوانیا کے شہر، ایری میں تیار کیے جائیں گے۔

امریکہ پاکستان معاشی تعاون کے بارے میں جمعرات کو جاری ہونے والے ایک حقائق نامے میں بتایا گیا ہے کہ ’’انیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک، پاکستان کے ساتھ ہماری جاری معاشی ساجھے داری کے نتیجے میں امریکہ کو براہ راست ملک ہی میں اچھی اجرت والے روزگار کے مواقع میسر آئے، امریکی کاروبار اور برآمدات کو فروغ ملا، اور اہمیت کے حامل شعبہ جات میں سائنسی ترقی فروغ پائی۔‘‘

حقائق نامے کے مطابق، سنہ 2015 میں پاکستان کی جانب سے امریکہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے نتیجے میں امریکہ میں روزگار کے 1000 اضافی مواقع پیدا ہوئے۔

اِسی عرصے کے دوران، امریکہ اور پاکستان نے سنہ 2015 میں آلودگی سے پاک توانائی کے میدان میں پارٹنرشپ کا آغاز کیا، اور اہل کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شفاف توانائی کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کے اچھے مواقع موجود ہیں۔ اس سلسلے میں کامیاب ساجھے داری کے نتیجے میں 2020ء تک پاکستان کے شفاف توانائی کے شعبے میں کم از کم 3000 میگاواٹ بجلی کا اضافہ ممکن ہوگا، اور یوں، امریکہ میں شفاف توانائی کے کاروبار سے وابستہ سرمایہ کاروں اور کارکنان کو فائدہ ہوگا۔

ادھر، امریکی اور پاکستانی زرعی ماہرین کپاس اور گندم کے بہتر بیجوں کی تیاری کے ایک مشترکہ منصوبے پر کام کر رہے ہیں، تاکہ امریکہ اور پاکستان میں کپاس اور گندم کی فصلوں کو لگنے والی بیماریوں کے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹا جاسکے۔ اِس ضمن میں، امریکی ادارہ برائے ترقیات (یو ایس ڈی اے) امریکی اور پاکستانی سائنس دانوں کے مشترکہ تحقیقی کام میں مدد دے رہا ہے۔

دونوں ملکوں کو باہمی کوششوں کے نتیجے میں سائنس کو فروغ ملا ہے اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کئی نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

حقائق نامے کے مطابق، جب سے سنہ 2005 میں دونوں ملکوں کے مابین سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعاون کا سمجھوتا عمل میں آیا ہے، اب تک مختلف سائنسی شعبہ جات میں 96 تحقیقی منصوبوں کے لیے درکار رقوم فراہم کی گئی ہیں۔

’زرعی یونیورسٹی فیصل آباد‘ اور ڈیوس میں قائم ’یونیورسٹی آف کیلی فورنیا‘ کم لاگت والے خون کے تپ دق کا تشخیصی تجزیے کا نظام مرتب کرنے پر تحقیق کر رہی ہیں، زیادہ حساس نوعیت کا ہوگا۔ توقع کی جاتی ہے کہ عالمی ادارہٴ صحت کی سفارش کردہ ’اسپوٹم ٹیسٹ‘ سے زیادہ مؤثر ہوگا، جس پر اِس وقت بھارتی شہر چنائے میں تجربات جاری ہیں، تاکہ اُسے تجارتی بنیاد پر بھارت میں رائج کرنے کی منظوری دی جاسکے۔

فیصل آباد اور ڈیوس کی جاری تحقیق کے بارے میں ماہرین نے اِس توقع کا اظہار کیا ہے کہ تق دق کا یہ نیا تشخیصی ٹیسٹ مریضوں کے مؤثر علاج کا سبب بنے گا۔
اُن کا کہنا ہے کہ ایسے مریض جن کے ٹیسٹ سے ٹی بی کے مرض کی تصدیق ہوگی اُن کا بروقت علاج ممکن ہوگا، جس کے باعث اُن ملکوں میں جہاں یہ مرض وبا کی صورت اختیار کر لیتا ہے، کثیر آبادی کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہے۔

ادھر، ڈیئربورن میں واقع ’یونیورسٹی آف مشی گن‘ اور لاہور میں قائم ’یونیورسٹی آف انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یواِی ٹی)‘ کے اشتراکِ عمل سے’ فضا کے معیار کو پرکھنے‘ کی تحقیق پر کام ہو رہا ہے، جس کا موبائل اور ’وائرلیس ڈوائسز‘ پر اطلاق ممکن ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس نئے شعبے میں کی جانے والی تحقیق کا مقصد دونوں ملکوں کے شہری علاقوں کو، جن کی فضا آلودگی سے متاثر ہے، معیاری فضا میں سانس لینے میں مدد مل سکے گی، جب کہ اسی ٹیکنالوجی کو بعدازاں زمیں اور پانی کو معیاری بنانے کی مستقبل کی ’ایپلی کیشنز‘ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
علاوہ ازیں، امریکہ کی 16 ریاستوں اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں واقع 23 امریکی یونیورسٹیوں کو گرانٹس میسر آچکی ہیں، جس کی مدد سے وہ پاکستان کی اُنہی شعبہ جات کی یونیورسٹیوں کے ساتھ اشتراکِ عمل کرتے ہوئے کاروبار کو ترقی دینے اور جنس کی بنیاد پر مبنی مطالعے کے شعبوں میں مل کر تحقیق کریں گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG