رسائی کے لنکس

اٹلی: وزیراعظم برلسکونی کو سینیٹ سے بے دخل کر دیا گیا


سابق وزیرِ اعظم نے اپنے مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’جمہوریت کے لیے یومِ سوگ ہے‘‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ قانون ساز کی حیثیت چھن جانے کے باوجود وہ اٹلی کے سیاسی منظر نامے کا حصہ بنے رہیں گے۔

اٹلی کی پارلیمان نے سابق وزیراعظم سِلویو برلسکونی کو قانون ساز ادارے سے بے دخل کر دیا ہے، مگر ارب پتی رہنما نے سیاست میں شامل رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

سینیٹ نے ٹیکس سے متعلق جعل سازی کا مرتک ٹھہرائے جانے کی وجہ سے مسٹر برلسکونی کو بدھ کو ہوئی رائے شماری کے ذریعے پارلیمان سے باہر کر دیا۔

سِلویو برلسکونی نے اطالوی طرز تعمیر کی شاندار عمارت کے باہر بدھ کو اپنے مداحوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’جمہوریت کے لیے یومِ سوگ ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ قانون ساز کی حیثیت چھن جانے کے باوجود وہ اٹلی کے سیاسی منظر نامے کا حصہ بنے رہیں گے۔

تین مرتبہ وزیرِ اعظم کے عہدے پر براجمان رہ چکے مسٹر برلسکونی کو جن دیگر الزامات کا سامنا ہے اُن میں کم سن لڑکی سے جنسی تعلقات اور وزارتِ عظمیٰ کے اختیارات کا ناجائز استعمال شامل ہیں۔ اُنھوں نے عدالتی فیصلوں کے خلاف درخواست بھی دائر کر رکھی ہے اور وہ خود کو بے گناہ گردانتے ہیں۔

اٹلی کی سینیٹ میں مسٹر برلسکونی کی وفادار اراکین موجود ہیں، مگر اُن کے کردار سے متعلق قیاس آرائیوں کی وجہ سے ایوان میں سیاسی طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔

اُن کے سیاسی حلیف اینجلینو الفانو نے گزشتہ ماہ مسٹر برلسکونی سے علیحدگی کے بعد نئی جماعت کی بنیاد ڈالی جو موجودہ وزیرِ اعظم ایریکو لیٹا کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت کی حامی ہے۔
XS
SM
MD
LG