رسائی کے لنکس

بھوٹان: چالیس ہزار نیپالی پناہ گزینوں کی مغربی ممالک میں آبادکاری


بھوٹان: چالیس ہزار نیپالی پناہ گزینوں کی مغربی ممالک میں آبادکاری

بھوٹان: چالیس ہزار نیپالی پناہ گزینوں کی مغربی ممالک میں آبادکاری

اقوام متحدہ نے کہاہے کہ بھوٹان سے فرار ہوکر نیپال جانے والے مجموعی طورپر 40 ہزار نیپالی نسل کے باشندے مغربی ممالک میں آباد ہوچکے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر پناہ گزین امریکہ میں آباد ہوئے ہیں جب کہ کئی دوسرے ممالک مثلاً کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ناروے ، ڈنمارک اور نیدرلینڈز چلے گئے ہیں۔

نیپال میں تعینات اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے ایک عہدے دار اسٹیفن جیکومٹ نے کہا ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے جو نیپال اور ان حکومتوں کے تعاون سے ممکن نہیں تھی، جنہوں نے ان افراد کی اپنے ملکوں میں دوبارہ آباد کاری میں مدد دی۔

مغربی ممالک میں آباد ہونے والے افراد ان ایک لاکھ نسلی اعتبار سے نیپالیوں میں شامل ہیں، جن کی اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے اور جنہیں 1990 کے عشرے کے آغاز میں بھوٹانی حکام کی جانب سے بھوٹانی بدھ ثقافت اور نیپالی زبان پر پابندی کے باعث وہاں سے چلے جانے پر مجبور ہونا پڑاتھا۔

بھوٹان ایک عرصے سے اس الزام کی تردید کرتا آیاہے کہ نیپالیوں کو جبر اور خوف کے باعث ملک چھوڑنا پڑاتھا ، اس کا کہنا ہے کہ ان کا یہ اقدام رضاکارانہ تھا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کیمپوں میں اب بھی 72 ہزار پناہ گزین موجود ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق تقریباً 55 ہزار پناہ گزینوں نے دوبارہ آبادی کے پروگرام میں شمولیت کی درخواستیں دی ہیں اور توقع ہے کہ اگلے چار برسوں میں ان کی آبادکاری کا مرحلہ مکمل ہوجائے گا۔

XS
SM
MD
LG