رسائی کے لنکس

چھ سال بعد بھی بینظیر بھٹو قتل کیس ہنوز حل طلب


پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما اور سابقہ حکومت میں وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک نے تنقید کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ ان کی حکومت نے قاتلوں کی گرفتاری اور انھیں سزا دلوانے لیے تمام اقدامات کیے۔

اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم اور اس منصب پر دو بار متمکن رہنے والی بینظیر بھٹو 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ایک دہشت گردانہ حملے کا نشانہ بنیں۔

اس واقعے کو چھ سال گزرنے کے باوجود اب تک ان پر جان لیوا حملہ کرنے والے عناصر کو سزا نہیں ہو سکی ہے۔

بینظیر بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز 2008ء سے 2013ء تک برسراقتدار رہی لیکن ان کی مقتول رہنما کا مقدمہ کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکا۔ ان کے شوہر آصف علی زرداری پانچ سال ملک کے صدر رہے۔

بینظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت آٹھ لوگوں پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ مشرف ان دنوں اس کیس میں ضمانت پر ہیں جب کہ پانچ لوگ سلاخوں کے پیچھے اس مقدمے اور اپنے مستقبل کے فیصلے کے انتظار میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اس مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ’’ایف آئی اے‘‘ کی تحقیقاتی ٹیم نے دیگر متعلقہ تفتیشی و خفیہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ اولاً انھیں تفتیش میں برطانوی پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ کی معاونت بھی حاصل رہی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کو بینظیر بھٹو کے قاتلوں کی گرفتاری اور انھیں سزا دلوانے میں تاخیر پر مختلف حلقوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا رہا اور ان کی چھٹی برسی پر یہ تاثر بھی ابھرا ہے کہ شاید اس مقدمے کا فیصلہ ہونے میں کئی مزید سال گزر جائیں۔

تاہم پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما اور سابقہ حکومت میں وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں اس تنقید کو یہ کہہ کر مسترد کیا کہ ان کی حکومت نے قاتلوں کی گرفتاری اور انھیں سزا دلوانے لیے تمام اقدامات کیے۔

’’ملزم کو مجرم بنانا استغاثہ یا حکومت کا کام نہیں، یہ عدالت کا کام ہے۔۔۔اگر کسی کو شک ہے کہ قاتل نہیں پکڑے گئے تو وہ جائے 20 روپے لگائے اور چالان کی نقل حاصل کرے اس میں ہر چیز ملے گی۔۔۔قاتل بھی پکڑے، ان کی گفتگو کے ٹیپس بھی ملی، گاڑیاں بھی ملیں، خودکش حملہ آور جہاں سے چلے تھے وہ بھی ملے اور جن لوگوں نے انھیں اکوڑہ خٹک میں پناہ دی وہ بھی گرفتار ہوئے۔‘‘

2007ء میں جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت پرویز مشرف ملک کے ایک طاقت صدر تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے بینظیر بھٹو کے لیے سکیورٹی کا ناکافی انتظام کیا۔ پرویز مشرف اپنے خلاف الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

سابق فوجی صدر نے اگست 2008ء میں اس منصب سے استعفیٰ دیا اور 2009ء میں وہ خودساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے بیرون ملک روانہ ہوگئے۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کا نام بینظیر بھٹو قتل کیس میں شامل کیا گیا اور رواں سال ان کی وطن واپسی پر اگست میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی۔

بینظیر بھٹو کی چھٹی برسی کے موقع پر ان کی جماعت صرف سندھ میں برسر اقتدار ہے جس نے جمعہ کو اپنی مقتول رہنما کی برسی پر صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کر رکھا تھا۔

ملک کے مختلف علاقوں سے پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے کارکنان ایک بڑی تعداد میں گڑھی خدابخش میں بینظیر بھٹو کے مزار پر جمع ہوئے جہاں برسی کی مرکزی تقریب منعقد ہوئی۔

اس وقت پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے اور نواز شریف تیسری بار ملک کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہیں۔ انھوں نے 2007ء میں بینظیر بھٹو کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت نامی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

رواں سال عام انتخابات سے قبل انتخابی جلسوں میں نوازشریف اور ان کی جماعت کے کئی دیگر رہنما پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ مسلم لیگ جب اقتدار میں آئے گی تو وہ بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی۔

تاہم بینظیر بھٹو کو قتل ہوئے چھ سال ہو چکے ہیں جب کہ نواز شریف کی حکومت کو ابھی صرف چھ ماہ کا ہی عرصہ گزرا ہے۔
XS
SM
MD
LG