رسائی کے لنکس

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 32 ویں برسی


سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 32 ویں برسی

سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی 32 ویں برسی

پاکستان کے سابق وزیرا عظم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 32ویں برسی پیر کو ملک بھر میں اور خاص کر سندھ میں انتہائی اہتمام سے منائی گئی۔ حکومت سندھ کی جانب سے اس موقع پر صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔ برسی میں شرکت کے لئے ملک بھر سے ہزاروں لوگ قافلوں کی شکل میں گڑھی خدابخش پہنچے۔

تعلقہ شہداد پور، لاڑکانہ، ڈگری، ٹنڈو جان محمد، جھڈو، نوکوٹ، کوٹ غلام محمد، میرواہ گورچانی، روہڑی، نصرپور، خیر پورناتھن شاہ سمیت سندھ بھر اور ملک کے طول و عرض سے قافلوں کی آمد کاسلسلہ اتوار سے ہی شروع ہوگیا تھا۔ متعددپارٹی عہدیداروں اور بعض وفاقی وزرا ء نے قافلوں کی قیادت کی۔قافلوں میں بسیں، منی بسیں، ٹرک اور دیگر ذرائع آمد ورفت استعمال کئے گئے جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے میلوں پیدل سفر بھی کیا۔ قافلے کے شرکا ء راستے بھر مختلف قسم کے نعرے لگاتے رہے۔

گڑھی خدابخش ذوالفقار علی بھٹو کا آبائی قبرستان ہے۔ یہاں مسلسل دو دن تک قرآن خوانی کے اجتماعات ہوتے رہے۔ قرآن خوانی کے ساتھ ساتھ مرحومین کے لئے فاتحہ خوانی بھی جاری رہی۔ شرکا ء نے مرحومین کے حق میں دعائے مغفرت بھی کی۔

اتوار اور پیر کو صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر سید خورشید احمد شاہ ودیگر وفاقی و صوبائی وزراء نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں، عام لوگوں، بھٹوخاندان سے عقیدت رکھنے والوں اور دوسری سیاسی پارٹیوں کے اہم رہنماوٴں نے مزار پر حاضری دی۔ ان افراد کی جانب سے مزار پر پھولوں کی چادریں بھی چڑھائی گئیں۔ برسی کے شرکاء کے لئے دونوں دن مفت لنگر تقسیم کیا جاتا رہا۔

ذوالفقار علی بھٹو 5جنوری 1928ء کو گڑھی خدا بخش میں ہی پیداہوئے تھے جو لاڑکانہ کے قریب واقع ہے۔ انہوں نے30 نومبر1960 کو پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے سابق صدر اورفیلڈ مارشل ایوب خان کی مخالفت سے سیاست کا آغاز کیا۔ اس کی پاداش میں12 نومبر انیس سو اڑسٹھ کو انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

سات دسمبر انیس سو ستر کے پارلیمانی انتخابات میں پیپلز پارٹی مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت بن کر ابھری۔بھٹو بیس دسمبر انیس سو اکہتر سے تیرہ اگست انیس سو تہتر تک پاکستان کے صدر بھی رہے جبکہ وہ چودہ اگست انیس سو تہتر سے پانچ جولائی انیس سوستتر تک وزیراعظم رہے۔

اس عرصے میں انیس سو تہتر کا آئین تشکیل پایا اور ایٹمی پروگرام کا آغازبھی ہوا تاہم پانچ جولائی انیس سو ستتر کو ان کی حکومت ختم کر دی گئی اورسابق فوجی آمر ضیاء الحق نے منتخب وزیر اعظم کو گرفتار کر کے ملک میں مارشل لاء لگا دیا ۔

ذوالفقار علی بھٹو کوتین ستمبر کو نواب محمد احمد خان قصوری کے قتل کے الزام گرفتار کیا گیا۔ ان پر قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔اٹھارہ مارچ 1978ء کو لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کو مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی۔ 25مارچ 1978ء کو سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی جسے مسترد کردیا گیا ۔آخر کار 4 اپریل 1979ء کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

ملک میں ان دنوں اسی عدالتی فیصلے کو لے کر نئی بحث جاری ہے۔ حکمراں جماعت کا عدالتوں سے مطالبہ ہے کہ چونکہ ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت کا فیصلہ فوجی آمر کے دباوٴ کے نتیجے میں سنایا گیا تھا لہذابھٹو کو بعد از مرگ بری قرار دیا جائے۔ اس غرض سے باقاعدہ ایک ریفرنس بھی تیار کیا گیا ہے جس پر صدر آصف علی زرداری دستخط بھی کرچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG