رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کی رپورٹ پرکارروائی کا آغاز، آٹھ افسران غیر فعال

  • ب

اقوام متحدہ کی رپورٹ پرکارروائی کا آغاز، آٹھ افسران غیر فعال

اقوام متحدہ کی رپورٹ پرکارروائی کا آغاز، آٹھ افسران غیر فعال

پاکستانی حکومت نے آٹھ ایسے پولیس افسران اور دوسرے سرکاری عہدے داروں کو عہدوں سے ہٹا کر عارضی طور پر غیر فعال کر دیا ہے جنہیں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹوکی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور جن کے نام اقوام متحدہ کے خصوصی کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ میں شامل ہیں۔

ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ او ایس ڈی بنائے جانے والوں کے نام ای سی ایل میں بھی شامل کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ پاکستان سے باہر نہ جا سکیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2007ء کے اواخر میں جب بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کے وقت ان کی حفاظت کے لیے کیے گئے انتظامات غیر مناسب تھے۔

غیر فعا ل کیے گئے افسران میں سات کا تعلق پولیس ڈپارٹمنٹ سے ہے جبکہ ایک وزارت داخلہ کے سابق ترجمان ہیں۔ اقوام متحدہ کے کمیشن کا مقصد اُن حالات کو جانناتھا جو بے نظیر بھٹو کے قتل کی وجہ بنے۔ اپنی رپورٹ میں تین رکنی کمیشن نے کہا ہے کہ مناسب سکیورٹی فراہم کرنے سے بے نظیر بھٹوپر ہونے والے قاتلانہ حملے کو روکا جاسکتا تھا اور اس قتل میں ملوث افراد اور اس کے اصل محرکات جاننے کے لیے ایک بااعتماد اور سنجیدہ تحقیقات کرانے کی ذمہ داری حکومت پاکستان کی ہے ۔

اس رپورٹ میں پاکستان کے دو اہم خفیہ ادارے، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سینئر افسران کے نام بھی شامل ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے پیر کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد کے نام بھی اقوام متحدہ کی رپورٹ میں شامل ہیں تفتیش کرنے والی ٹیم کی سفارش پر ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔

XS
SM
MD
LG