رسائی کے لنکس

نئی ایجادات کےمیدان میں چین بہت پیچھے ہے: بائیڈن


تاہم، اُنھوں نے یہ بات تسلیم کی کہ ’ہمارے مقابلے میں، چین میں سائنس اور انجنیئرنگ کی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے والے گریجوئیٹس کی تعداد آٹھ گنا زیادہ ہے‘

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نےچین کی معاشی ترقی کے بارے میں کی جانے والی باتوں کو زیادہ اہمیت کا حامل قرار نہیں دیا۔

خارجہ پالیسی پر تقریر کے بعد، امریکی فضائیہ سے تعلق رکھنے والے گریجوئیٹس سے باتیں کرتے ہوئے، بائیڈن نے یہ بات تسلیم کی کہ ’ہمارے مقابلے میں، چین میں سائنس اور انجنیئرنگ کی اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے والے گریجوئیٹس کی تعداد آٹھ گنا زیادہ ہے‘۔

تاہم، بقول اُن کے، ’میں آپ کو چیلنج دیتا ہوں کہ آپ اختراع و ایجاد سے متعلق کوئی ایک منصوبہ بتادیں، تبدیلی لانے والی کوئی ایک جدت، کوئی جدید مصنوعات جن پر چین کی چھاپ ہو‘۔

بائیڈن نے نوے کی دہائی کا ذکر کیا جب بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ بہت جلد جاپان ایک بڑی طاقت بن کر ابھرے گا، جاپان ہم سے آگے نکل جائے گا، اورجاپان ہی مستقبل کی طاقت ہوگا۔

تفصیل بتائے بغیر اُنھوں نے کہا کہ اب نئی معاشی طاقت کے اعتبار سے چین نے جاپان سے سبقت لے لی ہے، اور وہی امریکہ کے لیے چیلنج کا درجہ رکھتا ہے۔ ساتھ ہی، اُنھوں نےچین اور جاپان کی کامیابی کی خواہش کی۔

عام خیال یہ ہے کہ اِس عشرے کے اواخر تک مجموعی قومی پیداوار کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے طور پر چین امریکہ سے سبقت لے جائے گا۔

لیکن، کئی دہائیوں کی تیزی سے افزائش کے باوجود، چین کی معیشت کو بڑے چیلنج درپیش ہیں، جن میں وسیع تر عدم مساوات، بدعنوانی اور آلودگی کے مسائل شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG