رسائی کے لنکس

امریکہ تسلیم کرتا ہے ترکی کو کرُدوں سےخطرہ درپیش ہے: بائیڈن


استنبول

استنبول

ترک وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد، بائیڈن نے کہا کہ ''داعش کے جنگجو ہی ترکی کے عوام کے لیے خطرے کا باعث نہیں۔ پی کے کے بھی اُسی طرح کا خطرہ ہے، جس سے ہم آگاہ ہیں۔ یہ دہشت گرد گروپ ہے۔ عام اور سادہ الفاظ میں، جو کام وہ کر رہا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے''

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز ترکی سے کہا ہے کہ امریکہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ داعش کے شدت پسندوں کی طرح، کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) ترکی کے لیے اتنا ہی بڑا خطرہ ہے، جب کہ عراق میں جہادیوں کے خلاف لڑائی میں امریکہ کُرد افواج کا حامی ہے۔

بائیڈن اس وقت استنبول میں ہیں، جہاں اُنھوں نے وزیر اعظم احمد دائوداوگلو اور صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی، جب کہ اگلے ہفتے شام کے مستقبل کے بارے میں بین الاقوامی مذاکرات کا آغاز متوقع ہے۔

ترک وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد، بائیڈن نے کہا کہ ''داعش کے جنگجو ہی ترکی کے عوام کے لیے خطرے کا باعث نہیں۔ پی کے کے بھی اُسی طرح کا خطرہ ہے، جس سے ہم آگاہ ہیں۔ یہ دہشت گرد گروپ ہے۔ عام اور سادہ الفاظ میں، جو کام وہ کر رہا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے''۔

عوامی تحفظ کے دستوں کی مذمت نہ کی جائے

ترک مبصرین نے توجہ دلائی ہے کہ بائیڈن نے شام کی کُرد ملیشیا کی مذمت نہیں کی، جسے 'پیپلز پراٹیکشن یونٹس' کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا ترکی سخت مخالف ہے، اُسی طرح، جیسے وہ پی کے کے کا مخالف ہے۔ ملیشیا، جسے کُرد زبان میں 'وائی پی جی' کہا جاتا ہے، جو شام کی مضبوط 'کُردش ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی)' کا مسلح دھڑا ہے۔

کردستان ورکرز پارٹی سے تعلق رکھنے والے شدت پسند گذشتہ 30 سالوں سے ترک حکومت کے خلاف لڑتے آئے ہیں، جس کا مقصد جنوب مشرقی ترکی کی کرد اکثریت والے علاقے کے لیے خودمختاری کے حصول کی لڑائی ہے۔ پی کے کے شمالی عراق میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں متحرک ہیں، جسے امریکی فضائی امداد حاصل ہے۔

دائوداوگلو نے دسمبر میں ترکی کی جانب سے عراق میں فوج کی متنازع تعیناتی کا دفاع کیا، جس کے باعث عراق میں عراقی رہنمائوں نے بارہا احتجاج کیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترکی عراق کی سلامتی کا حامی ہے اور یہ کہ اُس کی فوجیں داعش کے اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

بائیڈن نے کہا ہے کہ اُنھوں نے دائوداوگلو کے ساتھ بات چیت کی ہے آیا ترکی کس طرح شام میں سنی عرب افواج کی مدد کر سکتا ہے، جو داعش کے خلاف لڑائی اور شامی صدر بشارالاسد کو ہٹانے کے لیے نبردآزما ہیں۔ دولت اسلامیہ عراق اور شمالی شام کے ایک وسیع رقبے پر قابض ہے، جب کہ اُس نے رقہ کے شہر کو اپنی خودساختہ 'خلافت ' کا دارالحکومت قرار دیا ہوا ہے۔
امریکہ سیاسی حل کا حامی ہے، تاکہ شام میں تقریباً پانچ برس سے جاری لڑائی کا خاتمہ کیا جاسکے۔ تاہم، بائیڈن نے کہا کہ امریکہ 'ہر طرح سے تیار ہے۔۔۔ اگر اس کا فوجی حل ممکن نہیں، اور جب تک داعش کا صفایا نہیں ہو جاتا'۔


XS
SM
MD
LG