رسائی کے لنکس

”عراق اور افغانستان نہیں بلکہ پاکستان امریکہ کے لیے باعث تشویش“

  • ب

”عراق اور افغانستان نہیں بلکہ پاکستان امریکہ کے لیے باعث تشویش“

”عراق اور افغانستان نہیں بلکہ پاکستان امریکہ کے لیے باعث تشویش“

نائب امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ افغانستان اور عراق سے زیادہ ان کے لیے پاکستان میں صورت حال زیادہ تشویش ناک ہے۔

امریکی ٹیلی ویژن سی این این کو دیے گے اپنے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس” جوہری ہتھیار اورانتہا پسند سوچ رکھنے والی ایک نمایاں اقلیتی آبادی موجود ہے“۔ اس کے علاوہ نائب امریکی صدر کے بقول پاکستان میں ایک ”مکمل فعال جمہوریت کا بھی فقدان ہے“۔

دہشت گردی کے خلاف افغانستان میں امریکی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے اور سرحدی علاقوں میں پاکستانی فوج کی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کی واشنگٹن حمایت کر تا ہے۔

نائب صدر بائیڈن نے ایک سوال کے جواب میں ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کی تشویش اور مئوقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ تہران کا مقصد جوہری ہتھیار بنانا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے تو علاقے کے دوسرے ممالک جیسے سعودی عرب، ترکی اور شام پر بھی ایسا کرنے کے لیے دباؤ بڑھ جائے گا۔

حالیہ دنوں میں امریکہ اور دوسری مغربی طاقتوں نے ایران پر اقوام متحدہ کی طرف سے نئی پابندیا ں لگانے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ تہران کو یورینیم کی افزودگی سے باز رکھا جائے جسے جوہری ہتھیاروں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایران کا مئوقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف اور صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG