رسائی کے لنکس

بیجنگ میں امریکی اورچینی نائب صدور کے مابین باضابطہ مذاکرات


بیجنگ میں امریکی اورچینی نائب صدور کے مابین باضابطہ مذاکرات

بیجنگ میں امریکی اورچینی نائب صدور کے مابین باضابطہ مذاکرات

جمعرات کو اپنے ابتدائی بیان میں اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مفادات اور ذمہ داریاں یکساں ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ وسیع تر باہمی تعلقات کے فوائد دونوں ملکوں سے بڑھ کردنیا میں کئی جگہ پھیلے ہوئے ہیں

امریکی نائب صدرجو بائیڈن نےاپنےپانچ روزہ دورہٴ چین کا آغاز کرتےہوئےاپنےچینی ہم منصب زی جِن پنگ سے کہا ہے کہ دونوں ممالک عالمی معاشی استحکام میں کلیدی کردارکےمالک ہیں۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے’ شِنھوا‘ نے زی کےحوالے سے خبر میں کہا ہے کہ جمعرات کو اپنے ابتدائی بیان میں اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کےمفادات اور ذمہ داریاں یکساں ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ وسیع تر باہمی تعلقات کے فوائد دونوں ملکوں سےبڑھ کردنیا میں کئی جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔

اپنے کلمات میں بائیڈن نے کہا کہ عالمی معاشی استحکام کےمعاملے کا زیادہ ترانحصار دونوں ممالک کے درمیان تعاون پر ہے۔

بائیڈن یہ دورہ ایسےمیں کر رہے ہیں جب دو ہفتے سےکم وقت پہلےامریکی کریڈٹ میں غیر معمولی کمی کا معاملہ سامنے آچکا ہے، جِس کےباعث ڈالر کے اثاثے محفوظ ہونے کے بارے میں عالمی تشویش بڑھ گئی تھی۔

بائیڈن کی آمد سےقبل امریکی عہدے داروں نے بتایا کہ نائب صدر اِس بات پر زور دیں گے کہ امریکہ معاشی طور پر مستحکم ہے اور یہ کہ چین کی سرمایہ کاری محفوظ ہے۔ متوقع طور پر وہ چین پر زور دیں گے کہ ڈالر کے عوض وہ اپنے سکے یوان کی قدر میں اضافہ کرے۔

امریکہ اور دیگر ممالک کا کہنا ہے کہ چین کا سکہ قدر سے شدید کم سطح پر ہونے کے باعث اُسے تجارتی اعتبار سے برتری حاصل ہے کیونکہ غیر ملک میں اُس کی مصنوعات ارزاں ہوجاتی ہیں۔ جون 2010ء سے اب تک چین نے یوان کی قدر میں سات فی صد تک کا اضافہ کیا ہے اور اُس کا مؤقف یہ ہے کہ قدر میں تیزی سے اضافہ اُن کی معیشت میں خلل ڈالنے کا باعث ہوگا۔

XS
SM
MD
LG