رسائی کے لنکس

امریکی نائب جو بائیڈن کا کروئیشیا کا دورہ


پناہ گزین کرویشیا کی سرحد کے قریب واقع سربیا میں ایک گاؤں سے گزر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

پناہ گزین کرویشیا کی سرحد کے قریب واقع سربیا میں ایک گاؤں سے گزر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

جنوب مشرقی یورپی رہنماؤں کی کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر کروئیشیا پہنچیں گے، جہاں وہ پناہ گزینوں کی آمد، توانائی اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر بات چیت کریں گے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن بدھ کو کروئیشیا پہنچیں گے جہاں وہ مقامی عہدیداروں اور یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کے ساتھ پناہ گزینوں کی آمد، توانائی اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر بات چیت کریں گے۔

یہ ملاقاتیں زغرب میں ہونے والی جنوب مشرقی یورپی رہنماؤں کی کانفرنس کے موقع پر ہوں گی جس کی میزبانی کروئیشیا کے صدر کولندا کتارووک اور سلووینا کے صدر بورت پہار کر رہے ہیں۔

اس سربراہی کانفرنس میں کروئیشیا، سربیا، بوسینا اور ہرزیگوینیا ، مقدونیا اور البانیا کے رہنما شرکت کریں گے جس میں بات چیت کا متوقع محور پناہ گزینوں کا معاملہ ہو گا جو ہزاروں کی تعداد میں ہر روز یورپی ساحلوں پر پہنچ رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے کروئیشیا، سلووینیا، سربیا اور مقدونیا نے نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف شام، عراق اور افغانستان کے جنگ زدہ علاقے سے آنے والے تارکین وطن کو ہی اپنے ملکوں میں سے گرزنے کی اجازت دیں گے۔

اس پابندی کے بعد تارکین وطن کی طرف سے کئی دن تک احتجاج جاری رہا جس پر اقوام متحدہ اور تارکین وطن کی عالمی تنظیم کی طرف سے ان ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعات کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے محفوظ راستوں کی فراہمی میں مدد کے لیے ایک بار پھر مربوط طریقہ کار اختیار کریں ۔

اس سربراہی کانفرنس کے انعقاد سے پہلے کروئیشیا اور سلووینیا کے رہنماؤں نے ملاقات میں ایک رحمدلانہ حل کی ضرورت پر زور دیا جس کے تحت بلقان کی ریاستوں سے گزرنے والے تارکین وطن کی تعداد کو بہت حد تک کم کیا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG