رسائی کے لنکس

ارب پتی سعودی شہزادے کا اپنی دولت خیرات کرنے کا عہد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

شہزادے کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں اور انہوں نے اپنے والد سے حاصل ہونے والے ابتدائی سرمایہ کو ہوشیاری سے استعمال کرکے اپنے اثاثے تعمیر کیے ہیں۔

دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شامل سعودی عرب کے ارب پتی شہزادے الولید بن طلال نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے سالوں میں 32 ارب ڈالر پر مشتمل اپنی دولت خیرات کر دیں گے۔

ایک بیان کے مطابق یہ رقم شہزادے کی تنظیم ’الولید فیلنتھراپیز‘ کو بین الثقافتی تفہیم اور ضرورت مند آبادیوں کی مدد کے شعبوں میں کام کے لیے عطیہ کی جائے گی، جس میں صحت، بیماریوں کے خاتمے، دور دراز دیہات میں بجلی کی فراہمی، یتیم خانوں اور سکولوں کی تعمیر اور عورتوں کو با اختیار بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔

کنگڈم ہولڈنگ کمپنی نامی سرمایہ کاری فرم کے چیئرمین شہزادہ الولید کا کہنا ہے کہ وہ اس سے قبل 3.5 ارب ڈالر اس تنظیم کو عطیہ کر چکے ہیں۔

حالیہ برسوں میں دیگر ارب پتی افراد بھی اس طرح کے عہد کر چکے ہیں جن میں وارن بفٹ، بل گیٹس، مارک زکربرگ اور مائیکل بلومبرگ شامل ہیں۔

شہزادے نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے فلاحی منصوبوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے صحت کے منصوبوں پر اس تنظیم سے تعاون کیا ہے۔

شہزادے کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں اور انہوں نے اپنے والد سے حاصل ہونے والے ابتدائی سرمایہ کو ہوشیاری سے استعمال کر کے اپنے اثاثے بنائے، جب انہوں نے ریاض میں یہ اعلان کیا تو ان کے دونوں بچے ان کے ساتھ موجود تھے۔

انہوں نے دولت عطیہ کرنے کے وقت کا تعین نہیں کیا مگر کہا ہے کہ آنے والے سالوں میں ایک حکمت عملی کے تحت ان کی دولت عطیہ کی جائے گی، جس کی نگرانی ایک بورڈ کرے گا۔

XS
SM
MD
LG