رسائی کے لنکس

موت سے پہلے بن لادن کی فکر

  • گیری تھامس

پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں بن لادن کی پناہ گاہ کو مسمار کیا جارہا ہے

پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں بن لادن کی پناہ گاہ کو مسمار کیا جارہا ہے

2 مئی ، 2011 کو امریکی کمانڈوز نے اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا۔ یوں انٹیلی جنس افسروں کی القاعدہ کے اس سب سے بڑے لیڈر کی برسوں کی تلاش ختم ہوئی ۔ امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں، بن لادن کو یہ فکر تھی کہ اس کی پُر تشدد جہادی تحریک دنیا کے دوسرے علاقوں کے واقعات کے سامنے ماند پڑتی جا رہی ہے۔

2 مئی، 2011ء کو امریکی کمانڈوز نے اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا۔ یوں انٹیلی جنس افسروں کی القاعدہ کے اس سب سے بڑے لیڈر کی برسوں کی تلاش ختم ہوئی۔ امریکی انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں، بن لادن کو یہ فکر تھی کہ اس کی پُر تشدد جہادی تحریک دنیا کے دوسرے علاقوں کے واقعات کے سامنے ماند پڑتی جا رہی ہے۔

ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جینس جیمز کلیپر نے ایک انٹرویو میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اپنی موت کے وقت، اسامہ بن لادن کو یہ فکر پیدا ہو گئی تھی کہ عرب موسم ِ بہار کی قوتوں کے سامنے، ان کی القاعدہ کی تحریک کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا’’عرب موسم ِ بہار کی تحریکیں عالمی جہادی تحریکوں سے مختلف تھیں۔ ان کی امنگیں اور محرکات کچھ اور تھے۔ یہ بات اسامہ بن لادن کے علم میں تھی اور اسے یہ تشویش تھی کہ وہ خود اور اس کی تحریک اپنی اہمیت کھو بیٹھے گی۔‘‘

ایک عشرے کی غلط اطلاعات اور ناکام کوششوں کے بعد، انٹیلی جنس کے افسروں کو بالآخر اپنا شکار ایبٹ آباد کے ایک کمپاؤنڈ والے گھر میں مل گیا۔ یہ جگہ ملٹری کی اکیڈمی سے دور نہیں تھی۔ ایک خفیہ کارروائی میں جسے نیپچون سپیئر کا کوڈ نام دیا گیا تھا، امریکی بحریہ کے سیلز خاموشی سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوگئے۔ انھوں نے 2 مئی کو صبح ہونے سے کچھ پہلے کمپاؤنڈ پر دھاوا بول دیا، اور بن لادن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اس کی لاش سمندر کے سپرد کر دی گئی۔

کمپاؤنڈ میں کاغذات اور کمپیوٹرڈرائیوز کی شکل میں انٹیلی جنس کا ایک خزانہ ہاتھ لگا جس سے انٹیلی جنس کے افسروں کو بن لادن اور القاعدہ کے بارے میں انتہائی قیمتی معلومات ملیں۔

کلیپر کہتے ہیں کہ انٹیلی جنس کے افسروں کو اس بات پر حیرت ہوئی کہ بن لادن کس حد تک الگ تھلگ ہو کر رہ گیا تھا۔ ’’ایک زمانہ تھا کہ وہ نئے ارکان سے حلف لیا کرتا اور خود تبلیغ کیا کرتا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ختم ہو گیا تھا ، اگرچہ اس کی اہمیت، اس کی شخصیت کا علامتی سحر اور اس کا نظریہ باقی تھا ۔ لہٰذا اس نے فلسفیانہ رہنمائی تو جاری رکھی تھی جس میں سے کچھ عام کارروائیوں کے بارے میں تھی اور کچھ جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لیے، اور میرے خیال میں کچھ سرا سر دیوانگی تھی ۔‘‘

کلیپر کہتے ہیں کہ بن لادن نے گیارہ ستمبر، 2011ء کے تباہ کن حملوں کے بعد، نئی سازشوں کی کوشش کا خیال ترک نہیں کیا تھا۔ لیکن تجزیہ کار کہتے ہیں کہ القاعدہ کی اصل طاقت، یعنی پاکستان میں قائم ابتدائی گروپ، اب اپنی اہمیت کھو چکا ہے۔

جارج میسن یونیورسٹی کی پروفیسراوڈرے کرٹ کرونن کہتی ہیں کہ القاعدہ کے حملوں میں مرنے والے مسلمانوں کی تعداد غیر مسلموں سے زیادہ ہے۔ ایک ایسے گروپ کے لیے جو اسلامی دنیا میں حمایت کا متلاشی ہے، یہ بڑی سنگین غلطی ہے۔’’بن لادن کو ہلاک کرنے کی کارروائی سے القاعدہ پر گہرا اثر پڑا ہے۔ لیکن اگر آپ اس تحریک کے طویل مدت کے اثرات کا جائزہ لیں، تو پتہ چلے گا کہ بن لادن کی موت سے چند سال قبل ہی، القاعدہ پر زوال آنا شروع ہو گیا تھا۔ لہٰذا اس آپریشن کے اثرات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن چند برس پہلے سے ہی مسلمان اکثریت والے ملکوں میں القاعدہ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آ چکی تھی۔‘‘

انٹیلی جنس کے چیف کلیپر کہتے ہیں کہ القاعدہ کی قیادت سے اب پہلے جیسا خطرہ ختم ہو چکا ہے کیوں کہ بن لادن کے مددگاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ مغربی دنیا کو حفاظتی اقدامات میں کمی نہیں کرنی چاہیئے۔’’القاعدہ کی مرکزی قوت بہت زیادہ کمزور ہو گئی ہے لیکن وہ مکمل طور سے ختم نہیں ہوئی۔ میرے خیال میں ہمیں اس پر اپنا دباؤ جاری رکھنا چاہیئے۔ پہلے کے مقابلے میں اس کا محض سایہ باقی رہ گیا ہے کیوں کہ اس کی اعلیٰ قیادت کو، یعنی اسامہ بن لادن کے نیچے کی قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔‘‘

کلیپر کہتے ہیں کہ اب اس گروپ کی بہت سی شاخیں بن گئی ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر ایسے ہیں کہ ان سے مغربی دنیا کو کوئی براہِ راست خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیئے ۔’’اب اس نے اپنے فرنچائز بنا لیے ہیں۔ لیکن ایک شاخ کو چھوڑ کر، باقی تمام برانچیں مقامی مسائل میں الجھی ہوئی ہیں اور امریکہ پر حملہ کرنا ان کی ترجیح نہیں ہے ۔ اس میں استثنا صرف ایک ہے۔ جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ ، یا AQAP یورپ اور امریکہ دونوں کے لیے اب بھی سب سے زیادہ خطرناک ہے۔‘‘

کلیپر کہتے ہیں کہ انٹیلی جنس کے حلقوں میں یہ تشویش بھی موجود ہے کہ شام جیسے ملکوں میں عرب موسم بہار جیسی تحریک کو انتہا پسند ہائی جیک نہ کر لیں۔

نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں جہادیوں کا کوئی پلاٹ کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی بہت سی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان تعاون بہت بہتر ہو گیا ہے ۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ میں مقدر کا بھی قائل ہوں ، اور ہو سکتا ہے کہ کسی حد تک اس میں ہماری خوش قسمتی کا بھی دخل ہو۔



XS
SM
MD
LG