رسائی کے لنکس

بن لادن کی ہلاکت اور ڈرون حملے


بن لادن کی ہلاکت اور ڈرون حملے

بن لادن کی ہلاکت اور ڈرون حملے

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی امریکی نیول سیلز کے ہاتھوں ہلاکت نے جہاں دہشت گردی کے خلاف جاری دس سالہ جنگ پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ وہیں پاکستان میں امریکی سپیشل فورسز کی جانب سے اس آپریشن کے باعث یہ بحث مزید زور پکڑ گئی ہے کہ امریکہ پاکستان کی سرحدوں کا احترام نہیں کر رہا۔ پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر سخت تنقید کی جاتی ہے اور بعض حلقے ان حملوں کو پاکستان کی سرحدی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا ڈرون حملے فائدہ مند ہیں اور کیا انہیں روکا جا سکتا ہے ؟

اسامہ بن لادن کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے تمام امریکی اہلکاروں نے یہی کہا ہے کہ اس کامیابی کا ایک اہم پہلو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کیے جانے والاے امریکی ڈرون حملے ہیں جن کی وجہ سے اسامہ بن لادن وزیرستان سے نکل کر کسی محفوظ شہر میں چھپنے کے لیے مجبور ہوا۔

حکومت پاکستان ، آئی ایس آئی، اور خود پاکستانی افواج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی امریکی حکام سے یہ مطالبہ کر چکے ہیں یہ حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں غیر موثر ثابت ہو رہے ہیں اس لیے انہیں روک دیا جائے مگر امریکی سی آئی اے ان حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے اور سمجھتی ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم حکمتِ عملی ہیں۔

بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے مائک او ہینلن سمیت واشنگٹن کے کچھ مبصرین کے مطابق یہ حقیقت سب ہی جانتے ہیں کہ پاکستان میں ڈرون حملے پاکستانی سرزمین سے حکومت کی مرضی اور آئی ایس آئی کے تعاون سے کیے جاتے تھے۔ حال ہی میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث امریکہ کی طرف سے ان حملوں میں آئی ایس آئی کا کردار ختم کر دیا گیا ہے۔ جس کے باعث بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ مائیکل اوہینلن کا کہتے ہیں کہ ڈرون حملے ایک مشکل بن چکے ہیں۔

ان کا کہناہے کہ پاکستان کے عوام اور سیاسی رہنماوں کو یہ پسند نہیں کہ کوئی اور ریاست ان کی سرحدوں کو پار کرے۔ حالانکہ اس بارے میں اس سے زیادہ مشاورت ہوتی رہی ہے جتنی ہم کبھی کبھار تسلیم کرتے ہیں اور پاکستانی ان حملوں کو پہلے اس سے زیادہ نظر انداز کرتے رہے ہیں جتنا وہ اب کرتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان نے سرکاری طور پر اس قسم کے تبصروں کو رد کیا ہے کہ ڈرون حملے اس کی مرضی سے کیے جا رہے ہیں۔ اوہینلن یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ امریکی ڈرون ہیں جو پاکستانی سرزمین پر لوگوں کو ہلاک کر رہے ہیں اور پاکستان کا احتجاج بھی سمجھ میں آتا ہے۔ مگر پاکستانی عوام کو امریکی نقطہء نظر بھی سمجھنا چاہیے۔

اوہینلن کا کہنا ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی سرزمین سے بہت سے لوگ افغانستان جا کر امریکیوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ ہمارے بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور پاکستان کے بھی بہت سے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔تو ہمیں ایک دوسرے کے درد کا اندازہ لگانے کے قابل ہونا چاہیے۔ اس وقت افغانستان پر حملے کرنے والے بہت سے دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستانی سرزمین پر ہیں۔

بوب بیئر سابق سی آئی اے اہلکار ہیں۔ وہ ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سی آئی اے کی طرف سے معلومات کا تبادلہ نہ کرنے کے باعث ڈرون حملوں کا معاملہ مزید پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں کہ قبائلی علاقوں میں ہلاک کیے جانے والے لوگ کون ہیں۔ 2010 میں 581 افراد ڈرون حملوں میں ہلاک کیے گئے جبکہ ان میں سے صرف دو لوگ پہلے سے دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھے۔ تو وہ کون ہیں جنہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کیا یہ وہ لوگ ہیں جن ہاتھ میں ہتھیار ہیں؟ کیا وہ طالبان ہیں؟ طالبان کیا ہیں؟ کیا وہ جرائم پیشہ افراد ہیں؟ کیونکہ طالبان کے بہت سے گروہ ہیں تو بہت سی چیزیں واضح نہیں ہیں۔

بوب بیئر کے مطابق ایک مسئلہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کا بھی ہے جو مختلف شکلوں میں پاکستان میں موجود ہیں اور ان میں سے بہت سے ادارے ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ نہیں کرتے۔ مائیکل اوہینلن کہتے ہیں کہ پاکستان کی مرضی کے بغیر امریکہ ڈرون حملے جاری نہیں رکھ سکتا۔

پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن جماعتیں امریکی ڈرون حملوں کو روکنے کا مطالبہ تو کرتی ہیں ۔ مگر واشنگٹن میں موجود ڈرون حملوں کے حامی مبصرین کے مطابق اسامہ بن لادن کی پاکستان میں ہلاکت نے اس رائے کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ القاعدہ کی لیڈرشپ پاکستان میں موجود ہے۔ اور ڈرون حملے انہیں ہلاک کرنے کے لیے ایک موثر ہتھیار ہیں۔

XS
SM
MD
LG