رسائی کے لنکس

رابرٹ او نیل نے امریکی اخباری اداروں کو بتایا ہے کہ اُنھوں نے ایبٹ آباد کے گھر کے احاطے کے اندر، بن لادن پر تین گولیاں چلائیں، جن میں سے دو اُن کی پیشانی پر لگیں، جب کہ تیسری گولی اس وقت چلائی جب وہ اپنے بسترے کے پاس فرش پر گرے ہوئے تھے

امریکی بحریہ کے ایک سابق کمانڈو نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2011 میں، آدھی رات کے وقت، ایبٹ آباد میں واقع گھر پر مارے جانے والے چھاپے کے دوران، اُنھوں نے ہی القاعدہ کے لیڈر، اسامہ بن لادن کو گولی مار کر ہلاک کیا۔

تین برس سے زائد عرصے تک اُن کا نام صیغہٴراز میں رکھا گیا۔ تاہم، رابرٹ او نیل نے امریکی اخباری اداروں کو بتایا ہے کہ اُنھوں نے اُس گھر کے احاطے کے اندر، بن لادن پر تین گولیاں چلائیں، جن میں سے دو اُن کی پیشانی پر لگیں، جب کہ تیسری گولی اس وقت چلائی جب وہ اپنے بسترے کے ساتھ فرش پر گرے ہوئے تھے۔

او نیل نے بتایا کہ وہ اُس وقت نیوی سیل کے 6 نمبر دستے کے کمانڈوز کے سربراہ کے ساتھ کھڑے تھے، جو بن لادن کے مکان کے احاطے کے اندر داخل ہوا، جو سنہ 2001میں القاعدہ کے امریکہ کے خلاف دہشت گرد حملوں کے منصوبہ ساز تھے، جن میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے۔

او نیل نے بتایا کہ بن لادن کے کمرے میں پہلے داخل ہونے والے ایک اور سیل نے بھی گولی چلائی، جو بظاہر نشانے پر نہیں لگی۔ ’جس کے بعد، اپنے ’نائٹ وژن اسکوپ‘ کی مدد سے، میں نے بن لادن کو دیکھا اور نشانہ بنایا‘۔

اڑتیس برس کے او نیل نے بتایا کہ کم از کم دو دیگر سیل دستوں کے ارکان نے بھی فائر کیے، جس میں مارک بسونیٹ شامل تھا، جنھوں نے اس سے قبل اس چھاپے کے بارے میں ایک کتاب، ’نو ایزی ڈے‘ تحریر کر چکے ہیں۔

اونیل 16 برس تک فوج میں فرائض انجام دینے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ اُنھیں خطاب کا خاص ملکہ بھی حاصل ہے۔
اُنھوں نے چھاپے سے متعلق اپنی شناخت اس لیے کرائی، کیونکہ اُنھیں پتا چل گیا تھا کہ دوسرے لوگ اُن سے متعلق انکشاف کرنے ہی والے ہیں۔

XS
SM
MD
LG