رسائی کے لنکس

اسامہ کی ہلاکت: تصاویرکو صیغہٴ راز میں رکھنے کا عدالتی حکم


فائل

فائل

امریکی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سی آئی اے نے اسامہ بن لادن کے آخری وقت کی تصاویر شائع کرنے سے انکار کرکے ایک مناسب رویہ اپنایا

اپیلوں کی سماعت کرنے والی ایک امریکی عدالت نے حکم صادر کیا ہے کہ وفاقی حکومت کو اِس بات کی ضرورت نہیں کہ وہ خصوصی فوجی دستے کی کارروائی کے دوران القاعدہ کے سرغنے اسامہ بن لادن کی کھینچی گئی تصاویر جاری کرے۔

دہشت گرد لیڈر اُس وقت ہلاک ہوا جب امریکی بحریہ کے ’سیلز‘ کمانڈوز نے پاکستان کی اُس عمارت کے احاطے میں خصوصی کارروائی کی جہاں وہ چھپہ ہوا تھا، جنھوں نے اِس مشن کی کامیاب تکمیل کی تصدیق کے طور پر ہلاک شدہ ہدف کی تصاویر لی تھیں۔

عدالت نے کہا کہ سی آئی اے نے اِن تصاویر کے شائع کرنے سے انکار کرکے ایک مناسب رویہ اپنایا اور یہ فیصلہ دیا کہ بن لادن کے چہرے کے شناختی تجزیے سے خفیہ اداروں کی طرف سے اختیار کردہ پوشیدہ طریقوں پر سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔

کورٹ کا کہنا تھا کہ اسامہ کی لاش کو سمندر بُرد کرنے کی تصاویر سے امریکی شہریوں کے خلاف تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اِس خفیہ ادارے کی طرف سے ’فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ‘ کے تحت اسامہ بن لادن کے پوسٹ مارٹم کی تصاویر جاری کرنے کی درخواست مسترد کرنے کے بعد، نظر رکھنے والے ایک قدامت پسند گروپ، ’جوڈیشل واچ‘ نے سی آئی اے کے خلاف یہ اپیل دائر کی تھی۔
XS
SM
MD
LG