رسائی کے لنکس

نئے سسٹم کے تحت ہر خریدار کو سم خریدتے وقت اپنی انگلیوں کے نشانات فون کمپنی کو دینا ہوں گے۔ جن کی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ )کے ریکارڈ سے تصدیق ہوگی اور اس کے بعد ہی اسے سم جاری کی جائے گی

پاکستان کے دو صوبوں، سندھ اور بلوچستان میں منگل سے تمام موبائل سمز صرف بائیومیٹرک سسٹم کے تحت ہی فروخت اور ایکٹو کی جاسکیں گی۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق، پیر سے تمام سمز کی 789 کے ذریعے ایکٹیویشن کا عمل ختم کیا جا رہا ہے؛ اور کل یعنی یکم اپریل سے سم کی فروخت بائیومیٹرک سسٹم کے تحت ہی ممکن ہو سکے گی۔

نئے سسٹم کے تحت ہر خریدار کو سم خریدتے وقت اپنی انگلیوں کے نشانات فون کمپنی کو دینا ہوں گے جن کی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ ) کے ریکارڈ سے تصدیق ہوگی اور اس کے بعد ہی اسے سم جاری کی جائے گی۔

نئی سم کی ایکٹیویشن میں نصب گھنٹہ درکار ہوگا، جبکہ تمام کسٹمر سروسز بھی بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ہی ممکن ہوسکیں گی۔

نئی سم کے خریدار کو اس بات کا بھی پابند بنایا گیا ہے کہ وہ خریداری کے وقت اصل شناختی کارڈ پیش کرے۔

بائیومیٹرک ویری فی کیشن مشینیں صرف کمپنی کے سروس سینٹرز اور فرنچائزز پر ہی دستیاب ہوں گی۔

پی ٹی اے کے نافذ کردہ قوانین کے مطابق، کسی اور کے نام کی رجسٹرڈ سم استعمال کرنا یا اپنے نام کی سم کسی اور کو دینا جرم ہے۔

نیا سسٹم کیوں ضروری ۔۔؟
بائیو میٹرک سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ غیر قانونی سمز کو روکنا ہے۔ پاکستان میں غیر قانونی سمز ایک سنگین مسئلہ ہے اور پچھلے ایک عشرے سے زائد عرصے سے جاری دہشت گردی اور ان میں غیر قانونی سمز کے روز بہ روز بڑھتے ہوئے استعمال کے بعد بائیومیٹرک سسٹم نافذ کیا جارہا ہے۔

اس سے قبل ملک بھر میں موبائل سمز کی خریداری بلا روک ٹوک جاری تھی اور عالم یہ تھا کہ ایک، ایک آدمی کے نام کئی کئی سمز رجسٹرڈ تھیں، جبکہ ایک یا دو سمز ہی اس کے زیر استعمال تھیں۔ مذکورہ صورتحال اس لئے پیدا ہوئی تھی کہ ماضی میں گلی محلوں اور عام دکانوں سے بغیر کسی تصدیق اور شناختی کارڈ دکھائے بغیر سمزفروخت ہوتی رہی ہیں۔

ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ ایک شناختی کارڈ پر اصل مالک کو ایک اور باقی کئی کئی سمز دوسرے کسٹمرز کواسی شناختی کارڈ پر فروخت کردی جاتی تھیں۔

غیر قانونی سمز سے جڑا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقوں خصوصاً افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں غیر قانونی سمز سے دہشت گردی یا بھتہ وصولی کی واردات کرکے دہشت گرد افغانستان چلے جاتے تھے اور کوشش کے باوجود اس طرح کی سمز کا کہیں کوئی ریکارڈ نہیں ملتا تھا۔ لہذا، اس تمام صورتحال پر قابو پانے کے لئے بائیومیٹرک سسٹم نافذ کیا جارہا ہے۔

پی ٹی اے کو توقع ہے کہ اس اقدام سے کم از کم سمز دہشت گردوں یا دیگر شر پسند عناصر کے ہاتھ لگنے سے بچی رہیں گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG