رسائی کے لنکس

نائین الیون، سلامتی کے امریکی اداروں کی نااہلی کے سبب ہوا


نائین الیون، سلامتی کے امریکی اداروں کی نااہلی کے سبب ہوا

نائین الیون، سلامتی کے امریکی اداروں کی نااہلی کے سبب ہوا

نیویارک اور پینٹاگان پر دہشت گرد حملوں کے دس سال بعد ، آج بھی امریکہ میں یہ بحث جاری ہے کہ یہ حملے القاعدہ کی کامیابی تھی یا امریکی سیکیورٹی اداروں کی نااہلیت ، جو ان حملوں کو روکنے میں ناکا م رہے۔ اس موضوع پر کئی کتابیں بھی لکھی جاچکی ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں منظر عام پر آنے والی کتاب ایف بی آئی کے ایک لبنانی نژاد امریکی عہدے دار علی صفان کی ہے، جو القاعدہ کے دہشت گردوں کی تفتیش سے منسلک رہ چکے ہیں۔

وہ اسامہ بن لادن کے باڈی گارڈ سلیم حمدان ، چیف باڈی گارڈ ابوجندال اور چیف آف آپریشنز ابوزبیدہ جسے مبینہ خطرناک دہشت گردوں سے تفتیش کرچکے ہیں۔

علی صفان نے ایف بی آئی کے ایک تفتیشی آفیسر کے طور پر یمن میں امریکہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس کول پر ہونے والے خود کش حملے ، نائن الیون اور دوسرے انتہائی حساس نوعیت اور اہمیت کے کیسز کی تحقیقات میں حصہ لیا۔ ان کی ان ہی یادداشتوں پر مبنی تصنیف Black Banners کے نام سے ستمبر میں سامنے آئی ہے ۔

ان کی کتاب پر سی آئی اے کے کچھ حلقوں نے تنقید کی ہے ، جس کی وجہ بعض لوگوں کے خیال میں یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ حملے سی آئی اے اور ایف بی آئی سمیت مختلف امریکی اداروں کے درمیان بہتر رابطوں کے فقدان کا نتیجہ تھے اورنائین الیون کو وقوع پذیر ہونے سے روکا جاسکتا تھا۔

علی صفان کا کہناہے کہ کچھ امریکی حکومتیں القاعدہ کو اپنے لیے بڑا خطرہ ماننے کو ہی تیار نہیں تھیں، جب کہ یوایس ایس کول کا واقعہ بھی پیش آچکاتھا۔ وہ کہتے ہیں کہ نائین الیون کمیشن اور دوسری رپورٹوں سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدر بش کی انتظامیہ کی رائے میں بھی یوایس ایس کول کیس غیر اہم ہوچکا تھا اور اس کے ردعمل میں جوابی کاروائی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔

علی صفان دہشت گردوں سے تفتیش کے لیے واٹر بورڈنگ سمیت دوسرے طریقوں کے استعمال کی اعلیٰ سطح پر مخالفت کرچکے ہیں ۔

ان کاکہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کی قابل مذمت دہشت گردی میں کامیابی کا کریڈٹ القاعدہ کی صلاحیتوں کودینا قطعاً درست نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ القاعدہ کی ذہانت نہیں تھی بلکہ یہ امریکی اداروں کی نااہلیت اور واشنگٹن کی محکمانہ سیاست تھی جس کے باعث یہ بڑا سانحہ رونما ہوا اور ہزاروں لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔

علی صفان کی رائے میں افغانستان میں اتحادی افواج کی موجودگی سے القاعدہ اورعلاقے میں اس کے حامی دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں انٹیلی جنس اداروں نےنمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

XS
SM
MD
LG