رسائی کے لنکس

حادثے سے قبل مصری طیارے میں دھواں بھرنے کے 'شواہد'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تفتیش کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اںہوں نے تباہ ہونے والے ائیر بس 320 کے اگلے حصے میں تپش سے ہونے والے نقصان اور کالک بھی  دیکھی ہے۔

مصر کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ 19 مئی کو بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہونے والے 'ایجپٹ ائیر' کے جہاز کے فضائی ڈیٹا سے معلوم ہوا ہے کہ جہاز کے اندر دھواں بھر گیا تھا۔

جہاز پر سوار تمام 66 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ڈیٹا ریکارڈر سے یہ معلوم ہوا ہے کہ دھواں ٹوائلٹ اور جہاز کے برقی حصوں میں تھا۔

یہ معلومات ائیر ٹریفک کنٹرولر کو طیارے کے تباہ ہونے سے پہلے ملنے والے سگنلز کے مطابق ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ریکارڈنگ کا عمل 37 ہزار فٹ کے بلندی پر رک گیا تھا۔

تفتیش کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اںہوں نے تباہ ہونے والے ائیر بس 320 کے اگلے حصے میں تپش سے ہونے والا نقصان بھی دیکھا ہے۔

جہاز کا دوسرے بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کو برآمد کر لیا گیا تھا تاہم یہ صحیح حالت میں نہیں ہیں۔ ان کی پیرس میں مرمت کی جا رہی ہے اور ان کی مدد سے بھی جہاز کے تباہ ہونے کی وجوہات کے بارے میں مزید اشارے مل سکتے ہیں۔

جہاز کے پائلٹ نے کسی قسم کی پریشانی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی تھی اور نا ہی کسی دہشت گرد گروپ نے اس جہاز کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

XS
SM
MD
LG