رسائی کے لنکس

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

  • جمیل اختر

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

بلیک فرائی ڈے کو باضابطہ طورپر کرسمس کی خریداری کا نقطہ آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس دن کی لوٹ سیل کے بعد کرسمس کی روایتی سیل شروع ہوجاتی ہے جو کرسمس ختم ہونے کے بعد بھی نئے سال کے آغاز تک جاری رہتی ہے ۔

تھیکنس گوونگ کے تہوار کا اگلا روز امریکہ میں بلیک فرائی ڈے کہلاتا ہے۔ اسے آپ لوٹ سیل کا قومی دن بھی کہہ سکتے ہیں۔ بلیک فرائی ڈے کے موقع پر صارفین میں جتنا جوش و خروش اور گہماگہمی دیکھنے میں آتی ہے ، اس کا عشر عشیر بھی اس کے بعد پورا سال دکھائی نہیں دیتا۔

ایک عام جمعے کو ’بلیک فرائی ڈے ‘ کیوں کہا جاتا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ یہ سال کا واحد جمعہ ہے جب صارفین صبح طلوع ہونے سے گھٹنوں پہلے گھپ اندھیرے میں اسٹوروں کےسامنے قطاریں بنا کرکھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ اس رعایتی قیمت پر اپنی پسند کی چیز حاصل کرسکیں ، جس قیمت پر پھر انہیں شاید سال بھر دوبارہ نہ مل سکے۔

معاشی ماہرین بلیک فرائی ڈے کی یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ یہ سال کا وہ دن ہے جب تاجروں کے کھاتے کالی سیاسی روشنائی سے لکھے جاتے ہیں۔ جس زمانے میں اکاؤنٹس کے شعبے میں ، کاروباری کھاتے ہاتھ سے لکھنے کا رواج تھا، ان دنوں منافع کا اندراج کالی روشنائی سے جب کہ نقصان کو سرخ رنگ سے لکھا جاتا تھا۔گویا بلیک فرائی ڈے کا ایک مطلب ہے تاجروں کے منافع کا دن۔

بلیک فرائی ڈے کی تاریخ کچھ زیادہ پرانی نہیں ہے۔ تاریخ دان اس کی کڑیاں 1924ء سے جوڑتے ہیں جب امریکہ میں گھریلوضرورت کی مصنوعات فروخت کرنے والی اسٹوروں کی ایک بڑی چین’’مے سی‘‘ نے تھینکس گوونگ کے موقع پر نیویارک میں ایک بڑی پریڈ کا آغاز کیاتھا۔ یہ پریڈ تب سے ہر سال ہوتی ہے ، جسے لاکھوں لوگ سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکر اور کروڑوں اپنے گھروں میں ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں۔ اسی دوران کسی موقع پر ’’مے سی‘‘ نے پریڈ کے اگلے دن، یعنی جمعے پر بڑے پیمانے کی سیل کا اعلان کیا۔ اکثر مورخوں کا خیال ہے کہ یہی بلیک فرائی ڈے کا آغاز تھا ۔ پھر اس کی دیکھا دیکھی دوسرے بڑے اسٹور اور تاجر بھی اس دوڑ میں شریک ہوگئے، اور چند ہی برسوں میں تھینکس گوونگ کے بعد کا جمعہ امریکہ میں ارزاں نرخوں پر چیزوں کی خریدو فروخت کا سب سے بڑا دن بن گیا۔

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

بلیک فرائی ڈے کو باضابطہ طورپر کرسمس کی خریداری کا نقطہ آغاز بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس دن کی لوٹ سیل کے بعد کرسمس کی روایتی سیل شروع ہوجاتی ہے جو کرسمس ختم ہونے کے بعد بھی نئے سال کے آغاز تک جاری رہتی ہے ۔

جنوری شروع ہوتے ہی مارکیٹوں اور اسٹوروں کی رونقیں ماند پڑنے لگتی ہیں۔ سیل کے دنوں میں بھرتی کیے گئے زیادہ تر ملازمین فارغ کردیے جاتے ہیں ۔اور اکثر لوگ بھی اپنی جمع پونچی خریداریوں میں صرف ہوجانے کے بعد آنے والے مہینوں میں بچت کے منصوبے بنانے لگے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ میں زندگی اپنے معمول پر آجاتی ہے۔

امریکہ میں زیادہ تر مارکیٹیں اور اسٹور صبح نو بجے کھلتے ہیں ، لیکن بلیک فرائی ڈے کے موقع پر اکثر اسٹور منہ اندھیرے صبح چار پانچ بجے ہی کھل جاتے ہیں۔ بلکہ کئی اسٹور تو اس سے بھی پہلے اپنے دروازے صارفین کے لیے کھول دیتے ہیں۔ جیسا کہ اس بار الیکٹرانکس کی ایک بڑی چین ’بیسٹ بائی‘نے رات بارہ بجے اسٹور کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

چونکہ ان دنوں امریکہ میں بے روزگاری کی سطح بہت بلند ہے اور معیشت کی رفتار اندازوں سے کہیں زیادہ سست ہے، اس لیے اکثر اسٹوروں نے صارفین کو اپنی جانب کھینچے کے لیے قیمتی الیکٹرانکس اور دوسری اشیاءانتہائی کم قیمت پر بیچنے کا اعلان کیا ہے۔

اکثر اسٹور اس موقع پر پہلے آنے والے کچھ گاہکوں کے لیے تحائف اور انعامات بھی رکھتے ہیں۔ کچھ اسٹور پہلے 10 یا 15 یا کچھ زیادہ گاہکوں کو الیکٹرانک کی مقبول چیزیں نصف قیمت پر یا بعض اوقات کوڑیوں کے مول د ےدیتے ہیں۔

کئی بڑی بڑی کمپنیاں طویل عرصے تک اشتہاری مہم چلانے کے بعد اپنی نئی مصنوعات بلیک فرائی ڈے کے موقع پر لانچ کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض چیزیں صارفین کے لیے اتنی کشش ہوتی ہیں کہ اسٹوروں کے سامنے دو تین دن پہلے سے ہی قطاریں لگ جاتی ہیں۔مگر مجال ہے کہ کوئی ہلڑبازی ہو، یا کوئی دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرے، سب انتہائی آرام اور سکون سے انتظار کرتے ہیں۔ کئی تو اپنے سونے کے بیگ ، حتی کہ چھوٹے خیمے تک ساتھ لاتے ہیں۔ اور ان کے دوست احباب ان کے کھانے پینے کا خیال رکھتے ہیں۔

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

بلیک فرائی ڈے۔۔۔سستی ترین قیمتوں پر خریدو فروخت

گذشتہ برسوں میں یہ مناظر آئی فون اور سونی پلے اسٹیشن کی فروخت کے موقع پردیکھے جاچکے ہیں۔ لیکن اس بار دارالحکومت واشنگٹن اور اس کے مضافات میں بلیک فرائی کی خرید کے لیے جمعرات کی شام تک کوئی ایسی بڑی گہماگہمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ جس کی ایک اہم وجہ بے روزگاری اور لوگوں کی آمدنیوں میں کمی بھی ہوسکتی ہے۔

بلیک فرائی ڈے کی خریداری ایک ایڈونچر سے کم نہیں ہوتی۔ اگر آپ طویل انتظار کے بعد جب آپ اسٹور میں داخل ہونے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ آپ کے پسندیدہ آئٹم کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے یا یہ کہ رعایتی قیمت پہلے پانچ یا دس صارفین کے لیے تھی اور آپ ان خوش نصیبوں میں شامل نہیں ہیں۔ اور اگر قیمت کی یاوری سے آپ کو مطلوبہ چیز مل بھی جائے تو قیمت چکانے کے لیےپھر ایک اور لمبی قطار آپ کی منتظر ہوتی ہے۔

چندبرسوں سے انٹرنیٹ پر کاروبار کرنے والے اسٹور بھی بلیک فرائی ڈے کی دوڑ میں شامل ہوچکے ہے، جن میں ویب پر فروخت کی سب سے بڑی سائٹ ’ایمران ‘ قابل ذکر ہے۔ انٹرنیٹ پر فروخت ٹھیک نصب شب شروع ہوجاتی ہے اور مطلوبہ تعداد مکمل ہونے پر رعایتی فروخت بند کردی جاتی ہے۔

اکثر لوگ گھنٹوں پہلے ان ویب سائٹس پر ، مطلوبہ معلومات انٹر کرنے کے بعد بارہ بجنے کا انتظار کرنے لگتے ہیں اور پھر جیسے ہی گھڑی کی سوئیاں بارہ بجاتی ہیں ، وہ فوراً کلک کردیتے ہیں۔ مگر ایک ساتھ ہزاروں کلک کر نے والوں میں سے خوش نصیبوں کا فیصلہ کمپنی کے کمپیوٹر کے ذریعے ہوتا ہے۔

بلیک فرائی ڈے کا سب سے اہم اور نمایاں پہلو، جو ہمارے ہاں شاید کم کم ہی دکھائی دیتا ہے ، وہ ہے لوگوں کا نظم و ضبط اور ایک دوسرے کا احترام۔ لوگ گھنٹوں بڑے سکون کے ساتھ اسٹور کے باہر قطار میں انتظار کرتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر کو تو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی باری آنے تک مطلوبہ چیز ختم ہوجائے گی ، لیکن اس کے باوجود دھکم پیل ہوتی ہے، اور نہ گریبان پکڑے جاتے ہیں۔اور یہ سب کچھ اس کے باوجود ہوتا ہے کہ وہاں اکثر اوقات تو کوئی پولیس اہل کار بھی موجود نہیں ہوتا۔

یہ ایک ایسانظارہ ہے جس کی یا تو آپ خواہش کرسکتے ہیں یا جسے صرف امریکہ میں بلیک فرائی ڈے پر دیکھ سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG