رسائی کے لنکس

فروری : امریکہ میں سیاہ فاموں کی تحریک کا مہینہ



فروری کا مہینہ امریکہ میں سیاہ فاموں کی تاریخ کے مہینے کے طور پر جانا جاتا ہے جس میں ان تمام سیاہ فام افراد اور واقعات کی یاد تازہ کی جاتی ہے جنہوں نے سیاہ فاموں کے لیے تاریخ مرتب کی۔ اس تحریک کا آغاز پچاس سال قبل اس وقت ہوا تھا جب نارتھ کیرولائیناکی ایک یونیورسٹی میں چار سیاہ فام طالب علم ، سفید فاموں کے لیے مخصوص میز پر کھانے کے لیے بیٹھے۔اس جرم کی پاداش میں انہیں کھانا دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ اور یہی اس تحریک کا نقطہ ِ آغاز ثابت ہوا جونہ صرف پورے امریکہ میں پھیلی بلکہ بعد ازاں سیاہ فاموں کو ان کے حقوق، تحفظ اور انصاف دلانے کا سبب بنی۔

سیاہ فاموں کے شہری حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے لیڈرڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے نظریات سے متاثر چار سیاہ فام نوجوان نارتھ کیرولائینا کی ایک یونیورسٹی میں یکم فروری 1960 ءکوایک ایسی میز پر جو سفید فاموں کے لیے مخصوص تھی بیٹھ گئے ، مگرریسٹورنٹ نے انہیں کھانا پیش کرنے سے انکار کر دیا۔

جوزف مک نیل اس وقت محض سترہ برس کے تھے جب انہیں اور ان کے دوستوں کو سفید فاموں کی میز پر بیٹھنے کی پاداش میں کھانا دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ اس وقت انہیں " Jim Crow" قانون کی ، جو سفید فاموں اور سیاہ فاموں میں تفریق کرتا تھا،خلاف ورزی کی پاداش میں جیل بھی ہو سکتی تھی۔ اس قانون کے تحت سیاہ فام اور سفید فاموں کے مخصوص تھیٹرز، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس تھے۔

میک نیل کہتے ہیں کہ اگر ہمیں ایک ہفتہ، ایک دن، دو یا تین ماہ کے لیے جیل کی جاتی تو ہم یہی سمجھتے کہ ہم نسلی تعصب کے خاتمے کے لیے جو کر رہے ہیں درست کر رہے ہیں۔

فرینکلین میک نیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ برتے جانے والے برتائو میں تبدیلی لانے کے لیے اس تحریک کا حصہ بنے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں سیاہ فاموں کے حقوق ، انسانیت اور معاشرے میں اپنے مقام کے لیے جدو جہد کرنا چاہتا تھا۔ خوش قسمتی سے میری ملاقات اپنے جیسے تین لوگوں سے ہو گئی۔

ان کے ایک اور ساتھی جبریل خازان کو ابھی تک سفید فام ویٹرس کی کہی بات یاد ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس نے کہا تھا کہ تم لڑکے یہاں کیا کر رہے ہو؟ تمہیں معلوم ہے کہ ہم سیاہ فاموں کو اس جگہ پر کھانا نہیں پیش کرتے۔ ہم نے اسکا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ہم یہیں بیٹھ کر پسند کریں گے۔

دن گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاہ فاموں کے لیے اس الگ تفریق کے سبب زیادہ سے زیادہ لوگ اس sit-in تحریک کا حصہ بنتے چلے گئے۔ جوزف میک نیل کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پانچ سو سے زیادہ طالب علم وول ورتھ اور دیگر سٹورز میں ایسی ہی تمام میزوں پر بیٹھ گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہم وہی کر رہے تھے جو کہ ہمیں کرنا چاہیے تھا۔ بلکہ ہم نے ان ریسٹورنٹس کو بتایا کہ ہم اسی طرح اس وقت تک آتے رہیں گے جب تک کہ سیاہ فاموں کو بھی سفید فاموں کی میزوں پر کھانا نہیں پیش کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کےلیڈر جولین بونڈ کا کہنا ہے کہ اس تحریک نے سیاہ فاموں کی تحریک کا رخ بدل ڈالا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ اس عمل نے اس تحریک میں جان ڈال دی۔ اور اس کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ یوں یہ تحریک پوری قوت سے ابھری اور پھر سب بدل گیا۔

جولائی 1960 میں دو لاکھ ڈالرز کے نقصان کے بعد وول ورتھ نے اپنی میزوں پر سفید فاموں اور سیاہ فاموں کو بلا تفریق کھانا پیش کرنے کا اعلان کیا۔

تاریخ دان لونی بنچ کا کہنا ہے کہ گرین سبورو اپنی نوعیت کی پہلی تحریک نہیں تھی مگر یہ میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ جس کی وجہ سے پورے ملک میں ایسے مظاہرے شروع کر دئیے گئے۔وہ کہتے ہیں کہ اس کامقصد یہ یاد دلانا ہے کہ کس طرح ایک تحریک نے زور پکڑا اور پورے ملک میں پھیل گئی۔

جبریل خاران کا کہنا ہے کہ اسے خوشی ہے کہ اس کا نام تاریخ میں شامل ہے مگر اس کا اصل کریڈٹ اس کے آباؤ اجداد کو جاتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ محض اتفاق تھا کہ ہم چاروں نے ایک تحریک شروع کی جو پورے ملک میں پھیل گئی۔ مگر کچھ بھی ناممکن نہیں اور یہی مجھے سکھایا گیا تھا۔

گرین سبورو سٹ ان کی پچاسویں سالگرہ کے موقعے پر انسانی حقوق کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ایک نئے عجائب گھر انٹرنیشنل سول رائٹس میوزیم سے ہوا ہے۔ کمیونٹی لیڈرز ان تمام لوگوں کو تاعمر خراج ِ تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے سیاہ فاموں کو انصاف و حقوق دلانے کے لیے لازوال قربانیاں دیں۔

XS
SM
MD
LG