رسائی کے لنکس

عراق شوٹنگ مقدمہ، بلیک واٹر کے چار اہلکار مجرم قرار


فائل

فائل

مدعا علیہان کے وکلاٴکی وزنی دلیل یہ تھی کہ محافظوں کو باغیوں اور عراقی پولیس کی طرف سے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے دفاع میں گولیاں چلانے پر مجبور تھے

ایک امریکی جیوری نے ’بلیک واٹر‘ سے تعلق رکھنے والے سابق چار سکیورٹی محافظوں کو سنہ 2007 میں بغداد میں ہونے والی شوٹنگز کے معاملے میں قصوروار قرار دیا ہے، جس میں 30 سے زائد عراقی ہلاک ہوئے تھے۔

نکولس سلیٹن کو قتل عمد کا مرتکب قرار دیا گیا؛ جب کہ دیگر تین محافظوں پال سلو، ایوان لبرٹی اور دستن ہرڈ کو غیرارادی قتل کا قصوروار ٹھہرایا گیا۔

جیوری نے شوٹنگ کے واقعات کےبارے میں عائد 33 الزامات میں سے ابھی صرف چند الزامات پر اپنا فیصلہ سنایا ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ جیوری باقی ماندہ الزامات پر غور و خوض جاری رکھے گی۔

یہ مقدمہ 14 عراقیوں کی ہلاکت اور 17 کے زخمی ہونے سے متعلق تھا۔ سولہ ستمبر، 2007ء کے شوٹنگز کےاِن واقعات کے سلسلے میں خبریں آنے پر، بین الاقوامی سطح پر چیخ و پکار ہوئی تھی، جس میں شہری لڑائی کے لیے اختیار کیے گیے انداز کے حوالے سے محکمہٴدفاع کے ٹھیکے داروں کے کردار پر سوالیہ نشان اٹھائے گئے تھے۔


امریکی محکمہٴخارجہ نے عراق میں امریکی سفارت کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے، ’بلیک واٹر‘ کی خدمات حاصل کی تھیں۔

بلیک واٹر کی چار بڑی بکتربند گاڑیوں کا ایک قافلہ خطرات سے دوچار ماحول میں خدمات انجام دیتا تھا، جس میں باغیوں کی طرف سے کار بم دھماکے اور حملے ہونا عام سی بات تھی۔

مدعا علیہان کے وکلاٴکی وزنی دلیل یہ تھی کہ محافظوں کو باغیوں اور عراقی پولیس کی طرف سے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں محافظ اپنے دفاع میں گولیاں چلانے پر مجبور تھے۔

ادھر، استغاثے کا کہنا تھا کہ اُن کے خلاف گولیاں نہیں چلائی جارہی تھیں، بلکہ محافظ بغیر کسی اشتعال کے گولیاں چلاتے تھے۔


حکومت کی طرف سے پیش کردہ ایک شاہد، جیریمے رِجوے نے، جو خود بلیک واٹر کا محافظ رہ چکا ہے، ایک خاتون کی ہلاکت پر اقبال جرم کر چکا تھا۔

قتل عمد کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔

XS
SM
MD
LG