رسائی کے لنکس

ایسے میں، یورپی یونین کے حامی، ٹونی بلیئر، جو لیبر پارٹی کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، ایک ڈرامائی انداز سے سیاسی میدان میں پھر کود پڑے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ دائیں بازو کے قدامت پسند کنزرویٹوز کو منتخب ہونے سے روکا جائے، جو یورپ سے علیحدگی کے خواہاں ہیں

یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر گذشتہ سال ہونے والے ریفرنڈم کا مقصد یہ تھا کہ یورپ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کے سوال پر جاری بحث و مباحثہ ختم ہو سکے۔ لیکن، ایسے میں جب برطانوی سیاست دانوں نے اس ہفتے اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، یوں لگتا ہے کہ یورپی یونین کی رکنیت کا معاملہ تمام معاملوں پر حاوی ہے، جس نے ملک کی روایتی پارٹی سیاست میں ایک بھونچال پیدا کر دیا ہے۔

ایسے میں، یورپی یونین کے حامی، ٹونی بلیئر، جو لیبر پارٹی کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، وہ ایک ڈرامائی انداز میں، سیاسی میدان میں پھر کود پڑے ہیں۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ جماعت کے حامی خوب سمجھتے ہیں کہ جون میں منعقد ہونے والے عام انتخابات میں حکمتِ عملی پر مشتمل ووٹ دیے جائیں، تاکہ دائیں بازو کے قدامت پسند کنزرویٹوز کو منتخب ہونے سے روکا جائے، جو یورپ سے علیحدگی کے خواہاں ہیں۔

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلیئر، برطانیہ کی تاریخ کے طویل مدت تک وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ اُنھوں نے حکمتِ عملی کی حامل ووٹنگ کی توثیق کی کھل کر حمایت سے احتراز کیا ہے۔ پیر کے روز اُنھوں نے دلیل دی کہ ’’یہ وقت ایسا نہیں ہے کہ روایتی پارٹی بنیادوں کے انتخاب کا ساتھ دیا جائے‘‘۔

بلیئر نے اِس بات کا عندیہ دیا کہ وہ پارلیمانی سطح پر دوبارہ آنا چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ خود امیدوار بننا چاہیں گے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ ووٹروں کو چاہیئے کہ امیدواروں کی موزونیت کو ’برگزٹ‘ کے معاملے پر پرکھیں، اور اِسی بنا پر اپنا ووٹ ڈالیں۔ بقول اُن کے، جماعت سے وابستگی کی پرواہ کیے بغیر، توجہ صرف یورپی یونین کے معاملے پر مبذول ہونی چاہیئے۔

وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ جب یورپی بلاک سے علیحدگی کے سمجھوتے پر مذاکرات ہوں، تو وہ ’کنزرویٹو‘ وزیر اعظم، تھریسا مے کے مدِ مقابل کھڑے ہو سکیں۔

مے نے گذشتہ ہفتے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا،جب کہ پچھلے وعدوں کے مطابق، وہ قبل از وقت انتخاب کے حق میں نہیں تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG