رسائی کے لنکس

توہین رسالت قانون منسوخ نہیں کیا جاسکتا: شہباز بھٹی


توہین رسالت قانون منسوخ نہیں کیا جاسکتا: شہباز بھٹی

توہین رسالت قانون منسوخ نہیں کیا جاسکتا: شہباز بھٹی

توہین رسالت کا قانون اس ماہ ایک بار پھر موضوع بحث بنا جب پاکستان کی ایک عدالت نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کوموت کی سزا سنائی۔ میڈیا کی توجہ کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیمیں نئے سرے سے اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں مگر شہباز بھٹی کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔

پاکستان کے اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کے کہا ہے کہ حکومت توہین رسالت کے متنازع قانون میں ترمیم کرنا چاہتی ہے مگر اسے ختم نہیں کرسکتی کیونکہ ایسا کرنا شدت پسندی کو ہوا دے سکتا ہے۔

توہین رسالت کا قانون اس ماہ ایک بار پھر موضوع بحث بنا جب پاکستان کی ایک عدالت نے ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کوموت کی سزا سنائی۔ میڈیا کی توجہ کی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیمیں نئے سرے سے اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں مگر شہباز بھٹی کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔

ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور نے کہا ‘اس قانون کی منسوخی کے بارے میں کوئی سوچ بچار نہیں ہو رہی البتہ اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے۔’

پاکستان میں مسلمان آبادی 95فی صد سے زیادہ ہے اس لئے اس قانون کو عام لوگوں کی حمایت حاصل ہے اور عام طور پر سیاست دان بھی اس مذہبی قانون کے خلاف بات کرنے سے جھجکتے ہیں۔

قانون کے مطابق توہین رسالت کی سزا موت ہے۔ پاکستان میں اس قانون کے تحت بہت سے لوگوں کو سزا دی جا چکی ہے مگر ابھی تک کسی پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ اکثر مجرموں کواعلیٰ عدالتوں میں اپیل پربری کر دیا جاتا ہے مگر ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں کہ انتہا پسند عناصر بری کئے جانے افراد کو ہلاک کر دیتے ہیں۔

شہباز بھٹی کا کہنا ہے کہ قانون میں ترمیم کے لئے علما اور اقلیتی نمائیندوں سے مذاکرات کا آغاز جلد کیا جا ئے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی منسوخی سے مذہبی جماعتوں اورعسکریت پسند گروہوں کی جانب سے شدید ردعمل ہوگا ۔

اس قانون کے نقاد کہتے ہیں کہ لوگ اس قانوں کو استعمال کرتے ہوئے ذاتی مخالفین پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ ترقی پسند اور آزاد خیال تنظیموں کا کہنا ہے کہ ملک کی تقریباً چار فی صد مذہبی اقلیتیں اس قانون سے بری طرح متاثر ہیں۔

شہباز بھٹی کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیق سے معلوم ہو ہے کہ45سالہ آسیہ بی بی پیغمبر اسلام کی توہین کی مرتکب نہیں اور اسے جھگڑے کی وجہ سے جھوٹے الزام میں پھنسایا گیا ہے۔ آسیہ بی بی نے صدر آصف زرداری سے معافی کی درخواست کی ہے۔

جیل میں آسیہ بی بی کو حفاظتی انتظامات میں رکھا گیا ہے اور اس کے بچوں اور خاوند کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ توہین رسالت کے قانون اور حکومت کی ناکامی کی وجہ سے پاکستان میں انتہا پسند گروہ موثر طریقے سے اقلیتوں کو ان کے مذہب کی وجہ سے انہیں ستاتے اور ان پر مظالم ڈھاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG