رسائی کے لنکس

توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال روکنے کیلئے ترامیم کی جائیں: سینیٹ کمیٹی

  • عشرت سلیم

اجلاس میں کمیٹی نے وزارت برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ وہ توہین مذہب کے قوانین میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے جن سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی ان قوانین کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی ’سینیٹ‘ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک اجلاس میں گورنر پنجاب کے قتل میں سزا یافتہ ممتاز قادری کی اپیل مسترد کیے جانے سے متعلق عدالت عظمیٰ اُس فیصلے سے اتفاق کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ توہین مذہب کے قوانین میں ترمیم توہین مذہب کے زمرے میں نہیں آتی۔

کمیٹی کی چیئرپرسن نسرین جلیل نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اسے ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہو کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کی۔

بدھ کو ہونے والے اجلاس میں کمیٹی نے وزارت برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق کو ہدایت کی کہ وہ توہین مذہب کے قوانین میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے جن سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی ان قوانین کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

نسرین جلیل نے کہا کہ ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے قوانین میں کچھ حفاظتی شقیں رکھیں کہ ہر کوئی اسے اپنے ذاتی مفاد کے لیے یا دشمنی میں استعمال نہ کر سکے۔ اور یہ کہنا کہ ان قوانین میں ترمیم ہی توہین مذہب ہے بالکل غلط ہے کیونکہ اس سے پہلے بھی ان میں ترامیم آتی رہی ہیں۔‘‘

پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر نے 2010 میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے ایک کیس میں موت کی سزا ہونے کے بعد ان قوانین میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔ جنوری 2011 میں ان کے ایک محافظ ممتاز قادری نے اسی بات پر انہیں قتل کر دیا تھا۔ بعد میں ممتاز قادری کو دو بار موت اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

کمیٹی نے ملک میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو جبری طور پر مسلمان کرنے کے خلاف حکومت کی طرف سے کوئی اقدم نہ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدام کو جرم قرار دیا جائے۔

سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ سندھ میں ہندو برادری کی طرف سے لڑکیوں کو جبری طور پر مسلمان کرکے ان سے شادیاں کرنے کی شکایات موصول ہوتی رہی ہیں۔

انہوں نے سینیٹ کمیٹی کی طرف سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا مگر حکومت نے اسے روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا۔

’’ہم اس حوالے سے قطعاً مطمئین نہیں تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ایسی چیز سامنے آئے جس سے ایسے افراد کو قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے جو اس کے مرتکب ہوتے ہیں تاکہ اقلیتی برادریوں کو احساس تحفظ ہو۔‘‘

سینیٹر نسرین جلیل نے بتایا کہ جون 2014 میں سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں مذہبی روادری کو فروغ دینے کے سکول اور کالج کے نصاب میں انسانی اقدار سے متعلق اسباق شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اقلیتی مذاہب کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔ نسرین جلیل نے کہا ان احکامات پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی وفاقی حکومت اور خود وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے حالیہ بیانات میں کھل کر کہا جاتا رہا ہے کہ ملک میں آباد تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے حقوق کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

رواں ماہ ہی دیوالی کے موقع پر ایک تقریب میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر کسی پاکستانی ہندو کے ساتھ زیادتی کرنے والا مسلمان ہوا تو وہ ہندو کا ساتھ دیں گے۔

XS
SM
MD
LG