رسائی کے لنکس

کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت پر طالبان کا حملہ


خودکش حملے کے فوراً بعد افغان پارلیمان کے اندر کا منظر

خودکش حملے کے فوراً بعد افغان پارلیمان کے اندر کا منظر

خودکش کار بم دھماکے کے بعد چھ مسلح حملہ آوروں نے عمارت کے قریب جگہیں سنبھال کر فائرنگ شروع کر دی۔ تقریباً دو گھنٹوں کی لڑائی کے بعد تمام حملہ آور مارے گئے۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پارلیمنٹ کی عمارت پر پیر کو ایک خودکش بمبار اور چھ مسلح جنگجوؤں نے حملہ کیا، جس میں کم از کم 30 افراد زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں میں کم از کم چار خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔

کابل پولیس کے ترجمان کے مطابق ایک خودکش بمبار نے بارود سے بھری گاڑی سے پارلیمنٹ کے داخلی دروازے کے باہر دھماکا کیا۔

جس مقام پر یہ دھماکا ہوا وہاں تک پہنچنے کے لیے کئی ناکوں سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی کے باوجود خودکش حملہ آور بارودی سے لدی گاڑی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر تک لانے میں کیسے کامیاب ہو گیا۔

خودکش کار بم دھماکے کے بعد چھ مسلح حملہ آوروں نے عمارت کے قریب جگہیں سنبھال کر فائرنگ شروع کر دی اور تقریباً دو گھنٹوں کی لڑائی کے بعد تمام حملہ آور مارے گئے۔

کابل پولیس کے سربراہ عبدالرحمٰن رحمانی نے بتایا کہ تمام قانون ساز محفوظ ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب وزیر دفاع کے نام کی توثیق کے لیے اجلاس ہو رہا تھا۔

افغان ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مناظر میں اراکین پارلیمان عمارت میں دھوئیں کے باوجود موجود تھے اور اُن میں سے بعض پریشانی کے عالم میں عمارت سے باہر جا رہے ہیں۔

اجلاس میں افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے حال ہی میں وزیر دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کردہ معصوم ستنکزئی کے نام کی توثیق کی جانی تھی۔

پاکستان کی طرف سے حملے کی مذمت

پاکستان نے افغانستان میں پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی ایک مشترکہ دشمن ہے جن کے عزائم کو شکست دینے کے لیے پاکستان اور افغانستان میں اتفاق ہے۔

اُدھر پاکستانی وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں بھی اس اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کے ساتھ تعاون کے عزم پر قائم ہے۔

حالیہ مہینوں میں ملک کے مختلف علاقوں بشمول دارالحکومت کابل میں طالبان جنگجوؤں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

گزشتہ کچھ روز سے طالبان جنگجوؤں کی صوبہ قندوز میں بھی پیش قدمی جاری ہے اور اُنھوں نے دو اضلاع پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔

طالبان کا قبضہ ختم کرانے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کارروائی میں مصروف ہیں۔ علاقے میں لڑائی کے باعث بڑی تعداد میں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔

افغانستان سے گزشتہ دسمبر میں بیشتر بین الاقوامی افواج کے اںخلا کے بعد سے طالبان کی کارروائیوں میں بدستور شدت آ رہی ہے۔

ایک سکیورٹی معاہدے کے تحت تقریباً 12000 بین الاقوامی فوجی، جن میں اکثریت امریکیوں کی ہے، افغانستان میں اب بھی تعینات ہیں جو افغان فورسز کو تربیت اور انسداد دہشت گردی میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG